اصلاحات کی مخالفت کرنے والے ڈاکٹرز اپنا بندوبست کریں۔ شوکت یوسفزئی

وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے برسر احتجاج ڈاکٹروں کے حوالے دو ٹوک حکومتی موقف دیا ہے کہ ان کے جائز مطالبات کے سلسلے میں حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن اگر ڈاکٹرز اصلاحات کی مخالفت کررہے ہیں تو پھر وہ اپنا بندوبست کریں اور بھی بہت سارے لوگ بےروزگار بیٹھے ہیں۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں ڈاکٹروں کی تنخواہیں ہزاروں سے بڑھا کر لاکھوں کر دی گئیں، محکمہ صحت میں 30 فیصد بھرتیاں کی گئیں اور پیرامیڈکس کو باقاعدہ سروس سٹرکچر بھی دیا گیا۔

وزیراطلاعات نے کے ٹی ایچ واقعے کی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک ماتحت افسر اپنے وزیر کو بھلا کیسے آنکھیں دکھا اور باتیں سنا سکتا ہے، دوسرے یہ مسئلہ ڈاکٹروں کا نہیں بلکہ ضیاء الدین کی اپنی ترقی کا تھا جس کا اختیار وزیر کی بجائے بورڈ اف دائریکٹرز کے پاس ہے۔

نوشیروان برکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ایک 80 سالہ بزرگ پر انڈے پھینکنا بھلا کہاں کا انصاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ہسپتال میں بورڈ آف ڈائریکٹرز ہے، وہ اس معاملے کی انکوائری کرے گا اور ضرور ایکشن لے گا تاہم انتقامی کارروائی کسی کے خلاف نہیں کی جائے گی۔

صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ وزیرصحت کے ہمراہ صرف پولیس ہی گئی تھی ہسپتال، اسلحہ بھی پولیس ہی کے پاس تھا اور ان کے ہمراہ ذاتی محافظ نہیں تھے تاہم واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ان کے اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔

فوٹیج میں وزیرصحت کے ہمراہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اسلحہ بردار محافظ صاف نظر آتے ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button