شمالی وزیرستان فائرنگ واقعہ، متاثرین کےلئے امدادی پیکیج کا اعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے شمالی وزیرستان کے علاقہ خڑ کمر میں پیش آنے والے واقعے میں متاثرہ افراد کیلئے امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والے پختون قوم کو دوبارہ جنگ میں دھکیلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

وزیراعلیٰ نے واقعے میں جاں بحق افراد کے لیے 25 ، 25 لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والے افراد کےلئے دس، دس لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا اور کہا کہ عوام، پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی بدولت امن قائم ہوا ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے تمام اضلاع بشمول قبائلی اضلاع میں عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کو زندگی کی تمام تر سہولیات مہیا کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کو پورا کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر دن رات محنت جاری ہے۔

محمود خان نے کہا کہ اس وقت وفاقی اور صوبائی قیادت پختونوں کے پاس ہے اور وہ پختونوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام تر مسائل حکومت کے سامنے رکھی جائیں تاکہ حکومت موثر انداز میں میں ان کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں نہ کہ مسائل کو بنیاد بنا کر ایک غیر ضروری مہم جوئی میں اپنا وقت ضائع کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دس ماہ کے قلیل عرصے میں میں قبائلی اضلاع کے کئی مسائل حل کیے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کا این ایف سی ایوارڈ میں اپنا 3 فیصد حصہ قبائلی اضلع کی تعمیر و ترقی کے لیے مختص کرنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت اپنے کیے گئے وعدوں میں نہ صرف مخلص ہے بلکہ ان کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

وزیرالیٰ محمود خان نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ 10 ماہ کے قلیل عرصے میں قبائلی اضلاع کے عوام کو مفت صحت کی سہولیات، نوجوانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی اور 28000 خاصادار اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنا موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی پختون قوم کے لئے مخلصانہ جدوجہد کا ثبوت ہے جو کہ کئی ملک دشمن عناصر ہضم نہیں کر پا رہے اور پختونوں کو ورغلا کر ایک نئے بد امنی کے دور اور غیر یقینی صورتحال میں دکھیلنا چاہتی ہے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button