یاک پولو کا کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے؟

 

گل حماد فاروقی

سطح سمندر سے تیرہ ہزار فٹ کے بلندی پر واقع چترال کے وادی بروغل میں یاک پولو کا میچ نہایت دلچسپ رہا۔

یاک پولو میں دونوں ٹیمیں مقامی بروغل کے تھے تاہم دو مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے ان کھلاڑیوں نے تماشائیوں کو خوب محظوظ کیا۔ پچیس منٹ کے بعد ہاف ٹائم ہوا اور کھلاڑی تازہ دم ہوکر دوبارہ کھیل کے میدان میں اترے۔

ہاف ٹائم کے بعد پھر نہایت دلچسپ مقابلہ شروع ہوا اور آخر کار اشکر واز کا ٹیم فاتح قرار پایا جس نے چکار کے ٹیم کو شکست دی۔ میچ کے دوران ایک کھلاڑی کو بال پیشانی میں لگ کر کافی زخمی بھی ہوا اور اس کے پیشانی پر کئی ٹانکے لگ گئے۔ میچ کا اہتمام خیبرپختونخوا ٹوارزم کارپوریشن نے کیا تھا۔

اس میچ کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں۔ یاک کو مقامی زبان میں خوش گاؤ بھی کہا جاتا ہے۔ یاک ایک جنگلی بیل کی طرح جانور ہوتا ہے مگر اس کی دم  اور جسم پر لمبے لمبے بال اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

یاک کے ناک میں سوراخ کرکے اس میں نکیل ڈالا جاتا ہے جس میں رسی ڈال کر اسے قابو کیا جاتا ہے۔ یاک پولو اور گھوڑا پولو میں فرق صرف اتنا ہے کہ گھوڑا تیز دوڑتا ہے مگر یاک تیز نہیں دوڑ سکتا۔

یاک پولو کی ہرٹیم می چھ چھ کھلاڑی ہوتے ہیں اور بال مرکز میں پھینکا جاتا ہے۔ اس کے بعد ہر کھلاڑی کوشش کرتا ہے کہ اسے ہاکی نما لکڑی سے مار کر آگے بڑھائے اور جہاں دو ستون کھڑے کئے جاتے ہیں اس کے درمیان میں سے گزار کر گول کیا جاتا ہے اور جو کھلاڑی گول کرنے میں کامیاب ہوتا ہے وہ بال کو ہاتھ میں پکڑ کر تیزی سے یاک کو دوڑاتا ہے اور مرکز میں پہنچ کر بال پھینکتا ہے اور اسے ہاکی نما لکڑی سے مارتا ہے جسے اس کے ٹیم کے دیگر کھلاری آگے بڑھاتے ہوئے دوسرا گول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

تاہم اس دوران مخالف ٹیم کے کھلاڑی بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ اس بال کو لکڑی سے مار کر پیچھے کی طرف دھکیلے اور اپنے ٹیم کے کھلاڑیوں کو پھینک کر مخالف سمت میں گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر شاہ سعود اور دیگر مہمانوں نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے۔ کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ تماشائیوں اور سیاحوں نے بھی شکایت کی کہ پچھلے سالوں میں بروغل کا تہوار ایک قدرتی میدان میں کھیلاجاتا تھا جہاں گھاس ہوتی تھی اور کھیل کے دوران مٹی اور گرد و غبار بھی نہیں تھا ساتھ ہی خواتین اور تماشائیوں کیلئے مناسب بیٹھنے کی جگہ بھی موجود تھی مگر امسال اس کھیل کے میدان پر تقریباً چار کروڑ روپے لگائے گئے مگر میدان پھربھی ناقص ہے۔

انہوں نے کہا کہ میدان میں اتنی مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے کہ تماشائی وہاں بیٹھ نہیں سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بابت تحقیقات کی جائے اور اس میدان میں گھاس لگا کر مٹی اور گرد و غبار سے لوگوں کو بچایا جائے اور خواتین کے بیٹھنے کے لئے بھی مناسب بندوبست کیا جائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button