قبائلی طلبہ کےلئے سکالرشپ ختم

قبائلی علاقہ جات کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے لئے سالانہ وظائف بند کردئیے گئے ہیں۔ باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا کہناہے کہ اس سال بجٹ میں ان کے وظائف کےلئے رقم مختص نہیں کیا گیا ہے۔ فاٹا سکالرشپ کے تحت یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم قبائلی طلبہ کو سالانہ 6 ہزار اور کالج کے طلبہ کو5 ہزارروپے وطیفہ ملتا تھا۔ فاٹا کے طلبہ کا کہناہے بروقت وظائف نہ ملنے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ نے گورنر خیبر پختونخوا اورفاٹا سے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے جلد سے جلد ان کے سکالرشپ بحال کی جائے۔ ٹی این این سے بات چیت کرتے ہوئے باجوڑ ایجنسی کے طلبہ کی تنظیم کے فضل الرحمن نے بتایا کہ قبائلی طلبہ کا سکالرشپ روکنا ناانصافی ہے، شدت پسندی اورفوج آپریشنزکےباعث قبائلیوں کا کاروبار تباہ ہوچکاہے جبکہ  زیادہ تر قبائلی آئی ڈی پیز ہوگئے ہیں۔ ایک طرف حکومت فاٹا میں قیام امن کےلئے تعلیم کو لازمی قرار دے رہی ہے دوسری جانب فاٹا کے طلبہ کےلئے تعلیم کا حصول مشکلل بنا رہی ہے۔ اس حوالے سے فاٹا سیکرٹریٹ کے حکام کا کہناہے کہ بعض اہل طلبہ کو سکالرشپ نہ ملنے کی وجہ سے اسے بند کردیاہے۔ سکالرشپ کی فراہمی کےلئے نیا طریقہ کارطے کیا جارہا ہے جس کے بعد سکالرشپ بحال کی جائےگی اور اس کے علاوہ سکالرشپ کے پیسوں میں بھی اضافہ کیا جائےگا۔

Show More
Back to top button