قومی اسمبلی نے حزب اختلالف کی مخالفت کے باوجود سائبر کرائمز بل منظور لیا

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے باوجود سائبرکرائمز بل منظور کر لیا ، پاکستانی کہیں بھی رہے جرم سرزد ہوا تو سزا ملے گی ۔

قوی اسمبلی نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق متعدد شقوں کی مخالفت کے باوجود سائبر کرائمز بل کی منظوری دیدی  ہے۔ یہ بل الیکٹرانک جرائم کے تدارک کا ایکٹ 2016 کہلائے گا اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا ۔ یہ قانون ہر پاکستانی شہری پر لاگو ہو گا ۔ پاکستان میں فی الوقت رہائش پذیر ہر شخص پر اس قانون کا اطلاق ہو گا ۔ تاہم قانون کا اطلاق پاکستانی شہری کے بیرون ملک سرزد ہونے والے جرم پر بھی ہو گا۔

بیرون ملک سے کسی پاکستانی شخص، جائیداد، معلوماتی نظام یا ڈیٹا کو متاثر کرنے والے پر بھی قانون کا اطلاق ہو گا۔ بل میں 51 شقیں شامل کی گئی ہیں ۔ بل پر بحث کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اب بھی اس بل کی 5 سے 6 شقوں پر ہمارے خدشات ہیں ، موجودہ شکل میں سائبر کرائم بل کی حمایت نہیں کریں گے ، سائبرکرائم بل کا مزید جائزہ لیا جائے تاکہ متفقہ طور پر منظور ہو سکے ۔

ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں ہم سائبر کرائم بل کو مسترد کرتے ہیں ۔ پی پی کے عمران ظفر لغاری کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم بل سے اظہار رائے ختم ہو جائے گی ، نوجوان ساری رات انٹرنیٹ پر بیٹھ کر ریسرچ کرتے ہیں، سائبر کرائم بل کے ذریعے ہماری سوشل ایکٹویٹی پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

Show More
Back to top button