وکلاءپرسیلزٹیکس کا نفاذ پشاورہائی کورٹ میں چیلنج

خیبرپختونخوا کے وکلاءپرپروفیشنل ٹیکس کے بعدسیلزٹیکس کے نفاذ کوپشاورہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے خیبرپختونخوابارکونسل کی جانب سے دائررٹ میںوکلاءپرعائدسیلزٹیکس کوکالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔خیبرپختونخوابارکونسل کے سیکرٹری نعیم پرویزکی جانب سے ایڈوکیٹ قاضی جواداحسان اللہ قریشی کی وساطت سے دائر رٹ میں وزارت قانون و انصاف ، خیبرپختونخواحکومت بذریعہ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری فنانس سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، ڈی جی ریونیواتھارٹی،کیپر ا اورکلکٹرکیپرا کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاگیاکہ صوبائی حکومت نے وکلاءکو سیلز ٹیکس کے نوٹس جاری کئے ہیںاوروکلاءپریہ سیلزٹیکس فنانس ایکٹ کے تحت عائد کیاگیاہے جبکہ وکلاءپروفیشنل ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اور وکالت کوئی کاروبارنہیں ہے بلکہ عوام کو انصاف کی فراہمی کاایک ذریعہ ہے اور اس قسم کاٹیکس نافذ کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے جبکہ اس قسم کے ٹیکس سے براہ راست عوام متاثرہوگی اوراس طرح یہ عوام کوانصاف کی فراہمی پرٹیکس عائد کرناہے جو کہ غیرقانونی اورغیرآئینی ہے اورعوام کو انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ ٹیکس کے نفاذ سے عوام پربوجھ پڑے گا جبکہ پروفیشنل ٹیکس پہلے ہی عائد ہے ایسی صورت میں سیلزٹیکس کیسے لگ سکتاہے جبکہ خیبرپختونخوادہشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہے اوروفاق خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے متاثرہ قرار دے چکی ہے توپھرصوبائی حکومت وکلاءپرایساٹیکس نافذ نہیں کرسکتی لہذاوکلاءپرعائد سیلزٹیکس کوکالعدم قرار دیا جائے۔

Show More
Back to top button