خیبر پختونخوا کے خواجہ سرا حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئے۔۔۔

خیبرپختونخوا کے خواجہ سرا ﺅں نے اپنے حقوق کیلئے پشاور ہائیکورٹ میں مرکزی وصوبائی حکومتوں کیخلاف رٹ پٹیشن دائر کردیاہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں خواجہ سراﺅں کے اتحاد ٹرانس ایکشن کی صوبائی صدر فرزانہ جان ‘پختونخوا سول سوسائٹی نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر تیمور کمال انسانی حقوق کے سرگرم رکن قمر نسیم‘ٹرانس ایکشن کی جنرل سیکرٹری آرزو نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے خواجہ سراﺅں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سنجید ہ رویہ نہیں اپنایا اور سپر یم کورٹ کی جانب سے دئیے گئے احکامات کو سالوں سال تک نظر انداز کیاجو قابل افسوس ہے اور توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، خواجہ سراﺅں نے پشاور ہائیکورٹ میں مرکزی وصوبائی حکومتوں کےخلاف ایک رٹ پٹیشن دائر کردی ہے جس میں مردم شماری کو تب تک روکنے کی استدعا کی گئی ہے جب تک مردم شماری فارم میں خواجہ سراﺅں کو شامل نہیں کرلیا جا تا اور ساتھ ہی عدالت عالیہ کے ان احکامات کی تعمیل نہیں کی جاتی جس میں نادرا کو ہدایت کی گئی تھی کہ خواجہ سراﺅں کو الگ جنس کے شناختی کارڈ فراہم کئے جا ئیں ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ شماریات کی جانب سے مردم شماری کیلئے تیار کردہ فارم میں خواجہ سراﺅں کو شامل نہیں کیا گیا ، صوبائی حکومت خواجہ سراوں کو مسلسل جھوٹے وعدوں پر ٹرخا رہی ہے، 2012ءسے لیکر آج تک محض اخباری بیان دیے جا رہے ہیں لیکن عملی طور پر کسی حکومت نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ۔

Show More
Back to top button