پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے حوالے سے سیمینار

پشاور( ٹی این این ) پختونخوا اولسی تحریک کے زیر اہتمام پشاور پریس کلب میں ’’پاک چائنہ اقتصادی راہداری‘‘کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام میں کہاگیا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کاریڈور ملک کا قسمت بدلنے والا منصوبہ ہے جس کا صرف ایک روٹ گلگت بلتستان ‘خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ہوتا ہوا گوادر تک تھا لیکن نواز شریف کی حکومت بنتے ہی یہ روٹ لاہور کی طرف موڑ دیا گیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ 28 مئی 2015ء کو نواز شریف نے آل پارٹی کانفرنس بلایا گیا جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مغربی روٹ کاریڈور کا ترجیحی روٹ ہوگاجس کو سب سے پہلے مکمل کیا جائیگا۔ اس روٹ کیلئے رقم دینے سمیت کاریڈور کے منصوبوں میں چاروں صوبوں کو مساوی حصہ دیا جائیگا، عملی طور پر اتفاق رائے 100 فیصد غلط ثابت ہوا، یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بجلی کے ترسیلی نظام ‘گیس کیلئے 3500 ارب روپوں میں ایک روپیہ بھی مغربی روٹ کو نہیں دیا گیا ۔
انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے پانی سے سستی بجلی کی بجائے لاہوری روٹ پر گیس ، شمسی ، کوئلہ اور فرنس آئل کی مہنگی بجلی کسی بھی آئینی ادارے سے منظوری کے بغیر شروع کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ مغل کوٹ کی سنگل سڑک N50 کو کاریڈور کا نام دیا گیا حالانکہ یہ منصوبہ 2007ء میں منظور کیا گیا تھاجس کوایشین ڈویلپمنٹ بینک سڑک کو بنارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جعل ساز افتتاح میں جھوٹ بولا گیااور یہ رقم نہ تو کاریڈور کے فنڈز سے ہے اور نہ ہی 2015-16 کے بجٹ سے ۔

Show More
Back to top button