حزب اختلاف نے وفاقی بجٹ کو یکسر مسترد کردیا

حزب اختلاف کے قئدین  نے گزشتہ روز پیش کیے گئے مالی سال حزب اختلاف کے قئدین  نے گزشتہ روز پیش کیے گئے مالی سال 2019-20 کے وفاقی بجٹ کو مسترد کر دیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2019-20 کے لیے تقریباَ 25 فیصد خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں 11 کھرب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں اور نتیجتاَ چینی، خواراکی تیل، سگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت دیگر کئی چیزیں مہنگی ہوگئی ہیں۔

اس حوالے سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کوشش کرے گی کہ یہ بجٹ پارلیمان سے پاس نہ کیا جائے۔

اسی طرح ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ نہیں بلکہ نااہل لوگوں کی جانب سے عوام کے خون چوسنے کا نسخہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بےروزگاری اور غربت نااہل حکومت کا ایک اور سیاہ کارنامہ ہے جو پاکستان کو مزید کئی سال پیچھے دھکیلے گا اور غریب آدمی کیلئے گزارہ مشکل ہوجائے گا۔

مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس بندے کے گھر کا خرچ اس کے ارب پتی دوست برداشت کریں اسے یہ اندازہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک غریب مزدور 15 ہزار کی تنخواہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت وفاقی بجٹ کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی بجٹ واجح طور پر آئی ایم ایف کا تیارکردہ ہے جس میں غریب آدمی کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسفند یار ولی خان کے مطابق وفاقی بجٹ میں تعلیم، صحت اور غیرملکی قرضوں کیئے کوئی واضح حکمت عملی شامل نہیں کی گئی ہے۔

Show More
Back to top button