ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوگا تو اسے ناراض کریں گے۔ وزیر خزانہ

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس دینے سے کوئی ناراض ہوگا تو اسے ناراض کریں گے۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ملکی معیشت مشکل دور سے گزر رہی ہے تاہم عوامی خواہشات و توقعات پوری کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر آدمی کو ٹیکس دینا ہوگا، اگر کوئی ٹیکس دینے سے ناراض ہو گا تو ہم اسے ناراض کریں گے لیکن کسی صورت میں ٹیکس چھوٹ اب کسی کو نہیں دی جائے گی۔

وزیر خزانہ کے مطابق ہمارے ملک میں امیر لوگ ٹیکس نہیں دے رہے،  امیروں کا ٹیکس نہ دینا قابل قبول بات نہیں ہے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ہم ماضی کے قرضوں کا سود دینے کیلئے قرض لے رہے ہیں، فوج اور حکومت کے خرچے قرضلے کر پورے کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں حکومت نے اپنے اور فوج کے اخراجات کم کیے ہیں، ہر سال 4 ہزار ارب روپے کے ٹیکس میں دو ہزار ارب روپے سود میں چلے جاتے ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ فائلر اور نان فائلر کا فرق ختم کررہے ہیں، کوئی نان فائلر کچھ بھی خریدے گا اسے فائلر بننا ہوگا، گاڑی اور جائیداد خریدنے والے کو فائلر بننا پڑے گا اور ذریعہ آمدنی بتانا پڑے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ نان فائلر بننا آسان ہے اور 6 منٹ میں آن لائن کمپیوٹر پر فائلر بن سکتے ہیں، اگر 45 دن میں فائلر نہ بنے گا تو اسکو خودبخود ٹیکس نظام میں لایا جائیگا۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ غلط تاثر ہو گا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے کوئی چھیڑ چھاڑ ہوئی، تقریبا 12 سو ارب کی ڈومیسٹک ٹیکسٹائل سیل ہے لیکن اس سیل پر 6 سے 8 ارب ٹیکس ملتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا 12 سو ارب کی سیل پر 8 ارب ٹیکس دیا جائے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ریفنڈز کے نظام کی بہتری کیلئے ایک اور پریس کانفرنس کریں گے، مانتا ہوں ریفنڈز کے سلسلے میں بہت بہتری کی گنجائش ہے، بنگلہ دیش اور چین کے ریفنڈ نظام کو متعارف کرانیکی کوشش کریں گے۔

عبدالحفیظ شیخ نے مزید کہا کہسابق حکومت نے ٹیکس نظام سے آدھے پاکستان کو خارج کر دیا تھا، ملکوں کے درمیان عزت سے کھڑے ہونے کے لیے ہمیں ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، کیا جو شخص ایک لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے وہ ایک یا دو ہزار بھی ٹیکس نہ دے، اگر یہ غریب ہیں تو پھر ان کا کیا بنے گا جو واقعی غریب ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button