سینیٹ اجلاس میں چیئرمین کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ نہ ہونے کا امکان

سینیٹ اجلاس میں چیئرمین کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ نہ کرائے جانے کا امکان ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی ریکوزیشن پر بلائے جانے والے اجلاس کا آرڈر آف دی ڈے پیر کو تیار کیا جائے گا، ریکوزیشن اجلاس کے ایجنڈا میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ شامل نہیں ہو گی، بلکہ اس پر صرف بحث ہو گی۔

سیکرٹریٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ سینیٹ کے معمول کے اجلاس میں ہو گی جو رواں ماہ متوقع ہے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قرارداد پر ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے بیلٹ پیپرز پر ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ نے سینیٹ کا شیڈیول اجلاس بلانے کے حوالے سے وزارت پارلیمانی امور کو سینیٹ سیکریٹریٹ کے ذریعے یاد دہانی کا پیغام بھجوا دیا۔

اس وقت ایوان بالا میں پاکستان پیپلز پارٹی کی 20 نشستیں ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے پاس 16 نشستیں ہیں۔

جمیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر اتحادی جماعتوں سمیت آزاد سینیٹرز کو ملا کر حزب اختلاف کے پاس اس وقت 62 ووٹ بنتے ہیں تاہم انہیں حتمی نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان تحریک انصاف کے پاس 14 نشستیں ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 2 اور آزاد سینیٹرز کو ملا کر ان کے پاس کل 41 ووٹ بنتے ہیں۔

صدر مملکت نے سینیٹ کا اجلاس یکم اگست کو طلب کر لیا

صدر مملکت عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس یکم اگست کو طلب کر لیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق اجلاس یکم آگست کو 2 بجے ہو گا جس میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی قراداد پیش کی جائی گی۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس عہدے کے لیے میر حاصل خان بزنجو متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار نامزد ہو چکے ہیں۔

19 جولائی کو حزب اختلاف کے سینیٹرز کے اجلاس میں 66 میں سے 54 سینیٹرز نے شرکت کی تھی جو تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے لیے کافی ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button