مریم نواز کے جسمانی ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع

 

لاہور کی احتساب عدالت نے چوہدری شوگرملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

نیب نے آج جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو احتساب عدالت کے جج نعیم ارشد کے روبرو پیش کیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ملزمان سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے، اسے مکمل کرنے کے لیے مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

مریم نواز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان تمام کیسز کی تحقیقات ہو چکی ہیں اور ٹرائل بھی مکمل ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ 8 اگست کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کو والد سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے تحویل میں لے کر نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا تھا اور ان کی گرفتاری کے تھوڑی دیر بعد ہی یوسف عباس کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کے دوران جنوری 2018 میں مالی امور کی نگرانی کرنے والے شعبے نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت چوہدری شوگر ملز کی بھاری مشتبہ ٹرانزیکشنز کے حوالے سے نیب کو آگاہ کیا تھا۔

بعدازاں اکتوبر 2018 میں نیب کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور ان کے بھائی عباس شریف کے اہلِ خانہ، ان کے علاوہ امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ غیر ملکی اس کمپنی میں شراکت دار ہیں۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ چوہدری شوگر ملز میں سال 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی گئی اور انہیں لاکھوں روپے کے حصص دیے گئے، جس کے بعد وہی حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم قانونی نہیں تھی۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button