افغانستان میں امریکی ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا ناانصافی ہے۔ وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے۔

روسی ٹی وی ’آر ٹی‘ کے ساتھ انٹرویو کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ نہ لڑتے تو ہم دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کےخلاف جنگ کا فنڈ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے دیا تھا اور پاکستان نے مجاہدین کو تربیت دی، ایک عشرے بعد جب امریکہ افغانستان گيا تو کہا گيا کہ یہ جہاد نہیں یہ دہشتگردی ہے، یہ بہت بڑا تضاد تھا جسے میں نے محسوس کیا، جبکہ امریکا کا اتحادی بننے سے یہ گروپس بھی ہمارے خلاف ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ہم نے 70 ہزار جانیں گنوائیں اور 100 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا، پاکستان کو امریکہ کی اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا، میں شروع سے اس جنگ کے خلاف تھا۔

عمران خان نے کہا کہ اتنے نقصانات کے باوجود آخر میں امریکا کی ناکامی پر ہمیں ہی قصوروار ٹھہرایا گیا اور امریکہ اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 58 ممالک نے بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال روکنے اور پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا، 58 ممالک کا پاکستان کا ساتھ دینا قابل ستائش اور یورپی یونین کا مطالبہ خوش آئند ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجائے اور کشمیریوں کے حقوق کا تحفظ و احترام کیا جائے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button