وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر کا دورہ ملتوی کردیا

وزیراعظم عمران خان نے جمعے کی شب آخری لمحات میں پاک افغان سرحد طورخم بارڈر کا دورہ ملتوی کردیا۔ وزیراعظم کو پاک افغان سرحد کے 24 گھنٹے فعال رہنے کا باضابطہ افتتاح کرنا تھا جس کے لیے آج ان کا دورہ طے کیا گیا تھا، مذکورہ دورہ اب 18 ستمبر کو ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دورہ وزیراعظم کی اسلام آباد میں سخت مصروفیت کے باعث ملتوی کیا گیا، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جولائی سے اب تک تیسری مرتبہ افتتاحی تقریب ملتوی کی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا منصب سنبھالنے کے بعد سے طورخم کی جانب یہ پہلا دورہ تھا جس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور صوبائی پولیس کے بہترین 70 دستوں سمیت اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورے کے پیشِ نظور گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے بارڈر کراسنگ بند کردی گئی تھی جبکہ پولیس نے لنڈی کوتل بازار بھی بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔
اسی سلسلے میں صوبائی وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے گزشتہ روز بارڈر کراسنگ پر موجود طبی سہولیات کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ صحت کی سیاحت کو فروغ دینے کا خواہشمند ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان طورخم طبی مرکز میں فلٹر پلانٹ کا بھی افتتاح کریں گے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان 29 جنوری 2019 کو ہدایات جاری کی تھی کہ 6 ماہ کے اندرطورخم بارڈر کو 24 گھنٹوں تک کھلا رکھنے کے لئے انتظامات کو یقینی بنایا جائیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ قدم دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور عوام کے باہمی رابطے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام سے پاک افغان تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ رپورٹس کے مطابق 2012 میں طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ 350 ارب روپے کی تجارت ہوتی تھی جو کم ہو کر 2018 میں 120 ارب روپے تک آگئی۔

Show More
Back to top button