موبائل صارفین کو ریلیف دینے کےلئے ایف بی آر کا ٹیکسز میں کمی کا فیصلہ

پاکستان میں موبائل صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے درآمد شدہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 50 فیصد تک کمی کی تجویز پیش کردی۔

قومی انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس کمی کا مقصد ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اس کمی کی وجہ سے ٹیکس کے وصولی میں کمی واقع نہیں ہوگی جبکہ اس کی مدد سے درآمدات میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کی جانب سے جاری ہونے والی سمری کے مطابق ٹیکس میں کمی سے پاکستان میں موبائل فون کے حجم میں اضافہ ہوا لیکن اس کی وجہ سے مجموعی طور پر پیدا ہونے والے منفی اثرات بھی ختم ہوجائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں موبائل فون کے ٹیکسز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔ جن موبائل فونز پر ڈیوٹی میں کمی کا فیصلہ کیا گیا، ان میں وہ موبائل سیٹ شامل ہیں، جن کی قدر ایک سو سے 2 سو ڈالر تک ہے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر  بتایا کہ اس تجویز کے عمل میں آنے کے بعد مقامی مارکیٹ میں موبائل فون کی قیمتوں میں کمی آئے گی تاہم اس سے مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فونز کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے ساتھ مل کر پاکستان میں موبائل فونز کی تیاری کے لیے ایک پالیسی تشکیل دے رہے ہیں جو حتمی مراحل میں ہے۔

موبائل فونز کی صنعت اب چین سے باہر جارہی ہے اور وہ دیگر ممالک کو بھی اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے متوجہ کر رہی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ موبائل فون پر ڈیوٹیز میں کمی کی طرح درآمد ہونے والے استعمال شدہ کپڑوں سے متعلق بھی سمری مرتب کی جائے گی کیونکہ یہ کپڑے زیادہ تر غریب افراد استعمال کرتے ہیں۔

Show More
Back to top button