پی آئی اے نفع بخش ادارہ بن رہا ہے

پاکستان انٹرنیشنل آئیر لائنز (پی آئی اے)کے حکام نے کہا ہے کہ قومی ادارہ منافعے میں ہے۔ حل ہی میں لندن میں تعینات ہونے والے پی آئی اے کے چیف ایگریکٹیو آفیسر برنرڈ ہلڈنبرالڈ نے کہا ہے کہ رواں سال مارچ اور اپریل میں ادارے  نے نفع کمانا شروع کیا ہے لیکن اب میں سخت کی مزید ضرورت ہے۔ سی ای او کا کہناتھاکہ پی آئی اے سیٹس اور مسافروں کے دیگر سہولیات بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب زیادہ تر مسافر پی آئی اے کے بجائے دیگر کمپنیوں کے جہازوں کی طرف جارہے ہیں لیکن پی آئی اے کی کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہے ہیں اور دوسرے کمپنیوں کے جہازوں سے مسافروں کو واپس پی آئی اے کی طرف لانا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ معیار کو بہتر بنانے کے لئے نئے آئیر ہوسٹس بھرتی کرائے جائیں گے اور انہیں خصوصی تربیت بھی دی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پی آئی اے کے 30 جہاز ہیں تاہم مزید جہاز خریدنے کی  ضرورت ہے اور اس کےلئے ایک بین الاقوامی آئیر لائن کے ساتھ تین جہازوں کے لیز پر کے معاملے پر بات چیت ہوئی ہے۔ان کا کہناتھاکہ موجودہ وقت میں پی آئی اے کی نجکاری نہیں ہورہی لیکن مستقبل میں ہوسکتی ہے۔

Show More
Back to top button