‘منرل بل’میں مشاورت سے مزید ترامیم کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ شاہ فرمان

گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے منرل سیکٹر گورننس ایکٹ 2019ء (ترمیمی بل) میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے مقامی باشندوں کو پہلی بار ان کے علاقوں میں موجود معدنی ذخائر پر حق لائسنس دیا گیا ہے جس سے علاقے میں امن وخوشحالی اور نئی ملازمتوں کے کثیر مواقع مہیا ہوں گے۔

ایک بیان میں گورنرشاہ فرمان نے کہا کہ حقائق سے لاعلمی کی بنیاد پر بعض لوگ اس حوالے سے منفی تاثر دے رہے ہیں جومناسب نہیں اور حقائق کے برعکس ہے۔

گورنر نے کہا کہ معدنیات ہمیشہ سے ہی پورے ملک میں سرکار کی ملکیت میں رہے ہیں اور اس بنیاد پر آئین پاکستان کے تناظر میں لائسنس یا منرل ٹائٹل کا اجراء ہوتا ہے تاہم قبائلی اضلاع کیلئے مقامی باشندوں کو حق لائسنس دیا گیا ہے اور جوائنٹ وینچر کی شق شامل کی گئی ہے تاکہ مدتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو، نیز منرلز ٹائیٹلز کی تعداد بڑھا کرپانچ کردی گئی ہے ساتھ ہی شفافیت کیلئے ای بڈنگ اور ضلعی سطح کی نیلامی کا طریقہ وضع کیا گیا۔

متعلقہ خبریں:

مرغیوں کے بدلے وسائل پر قبضہ ہمیں نامنظور ہے

حکومت نے معدنیات اپنی ملکیت میں لے لیے ہیں

 مائنز اینڈ منرل ایکٹ کا مقصد صرف معدنیات پر قبضہ

قبائلی اضلاع کے وسائل کو اپنے لوگوں میں تقسیم کرنے کا بل 

گورنر شاہ فرمان نے کہا کہ اس حوالے سے ترمیمی ایکٹ کی ایک سالہ تیاری پر محیط وقت میں تمام سٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کو مشاورت میں شامل کیا گیا پھر بھی اگر کوئی خامی پائی جاتی ہو تو بل میں مشاورت سے مزید ترامیم کی گنجائش ہوسکتی ہے۔

انہوں نے قبائلی مشران اور اقوام پر زور دیا کہ وہ اس ایکٹ کے ثمرات سے فیضیاب ہونے کی کوشش کریں۔

Show More
Back to top button