حکومتی دعوے ٹھس، باجوڑ کے عوام سڑک کی مرمت کیلئے چندہ اکٹھا کرنے پر مجبور

قبائلی ضلع باجوڑ کے مشران اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کی سب سے بڑی سڑک کی مزرمت کیلئے چندہ کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رکن سراج خان کہتے ہیں کہ مقامی لوگوں اور انتظامیہ کے تعاون سے سڑک پر کام شروع کیا گیا اور مامد گٹ تا منڈی 52 کلومیٹر سڑک کا کچھ حصہ چندے کی رقم سے مرمت کیا گیا جبکہ مرمت کا باقی کام جاری ہے۔

سراج خان نے کہا کہ یہ باجوڑ کی سب سے بڑی شاہراہ ہے جو کافی عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، قبل ازیں عنایت کلے کی سڑک بھی اسی طرح مرمت کی گئی تھی۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر باجوڑ نے کہا ہے کہ یہ سڑک چندے سے نہیں بلکہ قانونی طریقے سے مرمت کی جا رہی ہے، ہاں سڑک کی مرمت کیلئے بعض صاحب حیثیت لوگوں سے مالی اعانت ضرور لی گئی ہے کیونکہ وہ اس سڑک کو بروئے کار لاتے ہیں جس کی وجہ سے سڑک کی حالت خراب ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے صرف اعلانات کر رہی ہے جبکہ در حقیقت یہاں سڑکیں عوام کے چندوں سے بن رہی ہیں۔

Show More
Back to top button