خاصہ دار و لیویز کا پولیس میں انضمام: لالی پاپ یا سنجیدہ اقدام؟

عثمان خان

‘خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کردیا ہے، مجھے امید ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے اور مکمل انضمام کے لئے یہ جو 6 ماہ کا وقت دیا ہے اسی میں اس کام کو عملی جامہ پہنا دیا جائے گا۔”

ان خیالات کا اظہار لیویز اور خاصہ دار کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ اور پولیس نظام کے بعد شمالی وزیرستان میں نئے تعینات ہونے والے ڈی ایس پی سید جلال وزیر  نے ٹی این این کے پروگرام "بدلون” کے دوران کیا۔

ان کے علاوہ قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ڈاکٹر صبور آفریدی بھی موجود تھے۔

سید جلال وزیر نے بتایا کہ انکے مطالبے کے مطابق صوبائی حکومت لیویز اور خاصہ دار فورس کے 28 ہزار اہلکاروں کو ان کے رینکس کے مطابق عہدے دے گی۔

اس موقع پر ڈاکٹر صبور آفریدی نے کہا کہ جب قبائلی اضلاع کے انضمام کی بات ہورہی تھی تو اس وقت انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ انضمام کے بعد لیویز اور خاصہ دار کا مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا لیویز اور خاصہ دار فورس کا پولیس میں انضمام تب ہی درست ہوگا جب سب اہلکاروں کو اپنے اپنے رینک کے مطابق عہدوں پر تعینات کیا جائے گا۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے لیویز اور خاصہ دار فورس کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "اندیشہ ہے کہ صوبائی حکومت نے لیویز اور خاصہ دار فورس کو وقتی طور پر چپ کرانے کے لئے ایک لالی پاپ دیا ہے لیکن اگر واقعی ایسا ہوا تو اس کے نتائج بہت برے ہونگے۔”

سید جلال وزیر  کے مطابق اس ضمن میں آئی جی پی سے انہوں نے ملاقات کی جس کے دوران مختلف اضلاع کے اہلکاروں کو ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور باقی عہدوں کے بیجز لگا دئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر کے بھی شکرگزار ہیں جنہوں نے ان کو وقت دیا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے خاصہ داروں کی تعلیم اگرچہ کم ہے لیکن اگر ان کو چند مہینوں تک تربیت دی جائے تو وہ اس قابل ہوجائیں گے کہ پولیس نظام میں چل سکیں۔

"ایسا بھی نہیں ہے کہ خاصہ داروں کو لکھنا پڑھنا ہی نہیں آتا، رپورٹ تو وہ لکھ ہی سکتے ہیں کہ فلاں بندے نے یہ کام کیا یا وہ کام کیا، خاصہ دار اور لیویز میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے ماسٹرز کیا ہے۔”

ڈاکٹر صبور آفریدی نے مزید کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں جو زیادہ تعلیم یافتہ لوگ ہیں تو انکو ہی ایڈیشنل ایس ایچ اوز اور باقی عہدے دیئے جائیں اور باہر کے لوگوں کو قبائلی اضلاع میں لانے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ مقامی لوگ ہیں جو قبائلیوں کے رسم و رواج سے بھی باخبر ہیں۔

ڈاکٹر صبور آفریدی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے سید جلال وزیر نے کہا کہ شروع میں کام سکیھنے یا سکھانے کے لئے اگر ایڈیشنل ایس ایچ اوز ریگولر پولیس سے لئے بھی جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں تاہم بعد میں مقامی لوگوں کو ہی یہ عہدے دیے جائیں کیونکہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں ایسے اہلکار موجود ہیں جنہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔

"ہمارا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد قبائلی اضلاع کی پولیس میں جتنی بھی بھرتیاں ہوں صرف مقامی لوگوں کے لئے ہی ہوں کیونکہ مقامی لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ کون کیا کر رہا ہے، غلط اور صحیح لوگوں کو بھی پہچانتے ہیں۔”

قبائلی اضلاع میں پولیس کی مخالفت کرنے والے ملکان کے بارے میں ڈاکٹر صبور آفریدی نے کہا کہ انکا بنیادی مطالبہ الگ صوبے کا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کوئی پولیس نظام نافذ کرنا چاہتا ہے تو الگ صوبے میں کرے، انضمام کی صورت میں ان کو پولیس قبول نہیں ہے۔

اپنے 22 نکاتی مطالبات کے حوالے سے سید جلال وزیر نے کہا کہ انکا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ 28 ہزار لیویز اور خاصہ دار اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے کے حوالے نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے جو کہ صوبائی حکومت نے پورا کردیا اس کے علاوہ باقی مطالبات پر بھی کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صبور آفریدی نے کہا کہ نئی ہونے والی بھرتیوں میں قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے ساتھ خصوصی رعایت بھرتی جائے چاہے وہ تعلیم میں ہو یا عمر کے حوالے سے۔

سید جلال وزیر نے آخر میں یہ بھی کہا کہ لیویز اور خاصہ دار فورس میں ایسے لوگ ہیں جن کی عمر 60 سال سے اوپر ہوچکی ہے تو ایسے اہلکاروں کی جگہ ان کے خاندان کا دوسرا فرد پولیس میں بھرتی کیا جائے گا اورہماری یہ بات حکومت مان چکی ہے۔

Show More
Back to top button