"قبائلی اضلاع میں موبائل اور تھری جی کی بحالی خوش آئند ہے”

سلمان یوسفزئی

” آج کل کے دور میں کاروبار کے لئے موبائل اور انٹرنیٹ بہت ضروری ہے، بدقسمتی سے قبائلی اضلاع کے لوگ ان سہولیات سے کچھ عرصہ دور رکھے گئے لیکن اب قبائلی اضلاع میں موبائل اور تھری جی کی بحالی خوش آئند ہے۔”

ان خیالات کا اظہار قبائلی ضلع خیبرباڑہ سے تعلق رکھنے والے تاجریونین کے صدر سید آیاز وزیر نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن میں خصوصی بات چیت کے دوران کیا۔

سید آیاز وزیر نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولیات کا آغاز ایک اچھا اقدام ہے تاہم حکومت کو چاہیے کہ ان سہولیات سے پہلے ان اضلاع کے لوگوں کو بنیادی سہولیات جیساکہ تعلیم اور صحت وہ فراہم کریں کیونکہ قبائلی لوگوں کو سکولوں اور ہسپتالوں کی بہت ضرورت ہے۔

خواتین، بچوں، نوجواں اور خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والی زرتاشیہ جمال بھی اس پینل کا حصہ تھیں۔

ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران زرتاشیہ جمال نے کہا کہ قبائلی ضلع کرم اور خیبر ضلع کے تیراہ میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کا بہت مسئلہ تھا لیکن اب وہاں پر بھی حکومت نے عوام کو یہ سہولت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے وہاں سے رابطہ کرنے میں لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا تھا۔

زرتاشیہ جمال نے مزید کہا "ہر چیز کے اچھے اور برے پہلو ہوتے ہیں، قبائلی اضلاع کے طالبعلم پہلے بہت ساری چیزوں سے دور رہ چکے ہیں وہ پشاور کے طالبعلموں سے مقابلہ نہیں کرسکتے اب انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے وہ گوگل پہ جاکے ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں دنیا میں کیا ہورہا ہے یہ دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ انٹرنیٹ پہ اپنے لئے نوٹس وغیرہ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے انکو بہت فائدہ ملے گا۔”

زرتاشیہ جمال نے کہا کہ انٹرنیٹ سہولت کی بدولت قبائلی اضلاع کے نوجوان اب اس قابل ہوجائیں گے کہ ان کو پتہ چل سکے گا کہ نوکریاں کہاں پہ آئی ہیں کسطرح اپلائی کرنا ہے پہلے تو وہ نئی نوکریوں کے اشتہارات سے محروم رہتے تھے۔

"اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کی خواتین بھی اپنے حقوق سے محروم ہیں تو انٹرنیٹ کے آنے سے کم ازکم وہ اپنے بنیادی حقوق سے باخبر ہوجائیں گی۔”

سید آیاز وزیر نے بھی زرتاشیہ جمال کی تائید کی اور کہا کہ لوگ انٹرنیٹ اور موبائل سے صرف اس لئے کتراتے ہیں کہ انکو لگتا ہے کہ اس سے انکے بچے غلط راہ پر نکل جائیں گے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس کے بہت سارے فوائد بھی ہیں بشرطیکہ اسکا صحیح استعمال کیا جائے۔

زرتاشیہ جمال نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں ڈاکٹرز اور اساتذہ کی بھی بہت کمی ہے، اب انٹرنیٹ کی سہولت کی وجہ سے ایسے سکولز اور ہسپتال منظر عام پر آجائیں گے جہاں اساتذہ اور ڈاکٹرز کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ڈاکٹرز اور اساتذہ بھی انٹرنیٹ اور موبائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں نہیں آتے تھے اب امید ہے کہ وہ بھی ان علاقوں کا رخ کریں گے۔

زرتاشیہ جمال نے یہ بھی کہا کہ پہلے باہر ملک کے لوگوں کو مسئلہ ہوتا تھا گھر والوں سے بات کرنے کے لئے لیکن اب انٹرنیٹ اور موبائل کی سہولت سے وہ آسانی کے ساتھ اپنے بچوں، بیوی اور باقی گھر والوں سے بات کرسکیں گے۔

Show More
Back to top button