،،صحت انصاف کارڈز سے پہلے قبائلی عوام کو اسپتالوں اور مراکز صحت کی ضرورت ہے،،

 

خالدہ نیاز

،،قبائلی ضلع خیبرکے تینوں تحصیلوں میں صحت انصاف کارڈز کی تقسیم کا عمل شروع ہوچکا ہے، تحصیل جمرود میں جمرود سول اسپتال، لنڈی کوتل میں لنڈی کوتل اسپتال میں اور باڑہ تحصیل میں ڈوگرہ اسپتال میں کارڈز کی تقسیم کا عمل جاری ہے،،

ان خیالات کا اظہار خیبرضلع میں ڈسٹریبیوشن سپروائزر امانت علی نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ قریبا 20 دنوں سے کارڈز کی تقسیم کا عمل شروع کیا گیا ہے اور ابھی تک 10 ہزار لوگوں میں یہ کارڈز تقسیم کئے جاچکے ہیں۔

پینل ڈسکشن میں قبائلی اضلاع میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سکینہ مومند بھی موجود تھی۔

سکینہ مومند نے قبائلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈز کی توسیع کو خوش آئند قرار دیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبائلی عوام تب ہی مستفید ہوسکتے ہیں جب یہ ہر ضرورت مند فرد کو مل سکے۔

امانت علی نے پروگرام کے دوران کے دوران کہا کہ ،، کارڈز کی تقسیم کار کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے، ہم نے ہر تحصیل میں مختلف قوموں کو دن دیئے ہیں جس پہ آکر وہ اپنا کارڈ لے جاسکتے ہیں،، انہوں نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ پہ باقاعدہ علاج بھی شروع ہے۔

سکینہ مومند کے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ صحت انصاف کارڈز دینے سے پہلے قبائلی اضلاع میں لوگوں کو اسپتال اور صحت کے مراکز سمیت دوسری سہولیات دیں کیونکہ اگر کارڈز ہو اور اسپتال نہ ہو تو صحت انصاف کارڈز کا کیا فائدہ؟

انہوں نے کہا کہ،، میں ایک سروے کے لئے مہمند گئی تھی، ایک خاتون کا بچہ پیدا ہوا اور جب اس خاتون کو غلنئ لے جایا گیا تو وہاں نامناسب سہولیات کی وجہ سے وہ خاتون جاں بحق ہوگئی،،

امانت علی نے بتایا کہ ،،صحت انصاف کارڈز میں او پی ڈی سرے سے ہے ہی نہیں، اس میں کاسمیٹک یا پلاسٹک سرجری کی سہولت نہیں ہے، مصنوعی اعضا بھی نہیں ہے، اس کے علاوہ نفسیاتی اور جنسی مریض بھی اس کارڈ کے ذریعے علاج کرنے کے اہل نہیں ہے، گردہ کی پیوند کاری بھی اس کارڈ میں شامل نہیں ہے باقی جن بیماریوں کے مریض بھی اسپتال میں داخل ہوں وہ ان کارڈز سے مفت علاج کروا سکتے ہیں،،

انہوں نے کہا مریض ان کارڈز کے ذریعے مختلف قسم کی سرجریز کروا سکتے ہیں، اس سے ایک مریض ایک سال میں 60 ہزار روپے تک کا علاج کرسکتا ہے اور بعض مریض اس سے تین لاکھ روپے تک کا علاج کرسکتے ہیں۔

سکینہ مومند نے کہا کہ ان کارڈز سے قبائلی عوام کو بہت ساری صحت کی سہولیات مل جائیں گی لیکن اگر صحیح معنوں میں انکو علاج کی سہولیات دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں اور بہت متاثر ہوئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے انکو اسپتالوں میں بھی مناسب سہولیات دی جائیں۔

امانت علی نے قبائلی اضلاع کے عوام کو یہ حق دیا گیا ہے کہ پورے خیبرپختونخوا کے اسپتالوں میں ان کارڈز سے اپنا علاج کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ان کارڈز سے خاندان کا ہر فرد اپنا علاج کروا سکتا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے کہ ایک کارڈ پر مخصوص افراد اپنا علاج کرا سکتے ہیں۔

صحت انصاف کارڈ پر اپنا علاج کروانے کے طریقہ کار کے حوالے سے امانت علی کا کہنا تھا کہ جب ایک مریض اسپتال میں داخل ہوجائے تو اسکو صحت انصاف کارڈز کے لئے بنوائے گئے کاونٹر پر اپنا کارڈ اور شناختی کارڈ دکھانا ہوگا تو اسکا علاج ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا جن بچوں کے نام کارڈز پر نہ ہوں تو انکے فارم ب دکھا کرعلاج کروایا جاسکتا ہے۔

امانت علی نے مزید بتایا کہ اس کارڈ کے ذریعے حاملہ خواتین کو تین مرتبہ اسپتال وزٹ پر کرایہ کی مد میں ایک ایک ہزار روپے دیئے جائیں گے اس کے علاوہ اگر کوئی مریض اسپتال میں دم توڑ دے تو اس کو کفن کے لئے بھی دس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

Show More
Back to top button