،،ججز کی تعیناتی سے قبائلی عوام اب براہ راست عدالت سے رجوع کررہے ہیں،،

 

افتخارخان

،، قبائلی اضلاع میں ججز کی تعیناتی سے وہاں کے لوگوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے، میں خود قبائلی ضلع خیبرمیں پریکٹس کررہا ہوں اور پچھلے ایک ہفتے میں 10 لوگوں کو عدالت سے براہ راست ریلیف مل چکا ہے،،

ان خیالات کا اظہار قانون دان وقاص شنواری نے ٹی این این کے پروگرام بدلون کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ اس پینل ڈسکشن میں وقاص شنواری کے علاوہ قبائلی نوجوانوں کی تنظیم کے صدرخیال زمان اورکزئی اور خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم خویندو کور کی نمائندہ لبنیٰ حئی بھی موجود تھی۔

وقاص شنواری کا کہنا تھا کہ پہلے جب قبائلی اضلاع میں ایف سی آر کا قانون نافذ تھا تو یہ لوگ ایم این اے اور دوسرے بااثر افراد کے پیچھے بھاگتے تھے اور کہا کرتے تھے ان کے رشتہ داروں کو رہا کرنے میں مدد کریں لیکن اب یہ لوگ وکیل کو ہائر کرکے براہ راست عدالتوں سے انصاف حاصل کررہے ہیں۔

وقاص شنواری نے کہا کہ جن لوگوں کو رہائی ملی ہے ان میں زیادہ تربے گناہ لوگ شامل تھے۔

لبنیٰ حئی نے بھی قبائلی اضلاع میں ججزکی تعیناتی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور کہا ہے اس سے خواتین کو بھی یہ حق مل گیا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔

لبنیٰ حئی کا کہنا تھا کہ ،، قبائلی اضلاع میں جرگوں کا نظام تھا تو مردوں کے جو مسائل پیش آتے تھے وہ انہی جرگوں کے ذریعے حل ہوجاتے تھے لیکن خواتین کے لئے ایسا کوئی نظام نہیں تھا جہاں وہ جاکر اپنے مسائل حل کرواتی، قبائلی اضلاع میں کم عمری کی شادیوں اور وراثت میں حق نہ ملنے کے مسائل ہیں تو اب خواتین اپنے ان حقوق کے لئے عدالت سے رجوع کرسکتی ہیں،،

پینل ڈسکشن میں موجود خیال زمان اورکزئی نے اس حوالے سے کہا کہ ججز کی تعیناتی کے بعد قبائلی اضلاع کے لوگوں کو وکیل، اپیل اوردلیل کا حق مل گیا تاہم انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان ججز کو قبائلی اضلاع میں ہی تعینات کیا جائے کیونکہ اورکزئی کے جج ہنگو میں بیٹھے ہیں، کرم والے ٹل میں بیٹھے ہیں، باجوڑ والے تیمرگرہ میں بیٹھے ہیں۔

خیال زمان نے کہا،، قبائلی اضلاع میں جوڈیشل کمپلکس کو جلد سے جلد تعمیر کیا جائے، اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کے لوگ عدالتی نظام سے ناواقف ہیں تو پہلے وہاں پر اویئرنس سیشنز منعقد کئے جائیں کہ انکو پتہ چل سکیں کہ عدالتی نظام کیسے چلتا ہے؟،،

ایک سوال کے جواب میں قانون دان وقاص شنواری نے کہا کہ قبائلی عوام زیادہ تعداد میں عدالتوں سے رجوع کررہے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے یہ لوگ عدالتوں کے نظام پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

لبنیٰ حئی نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو ہرچیز پر برتری حاصل ہے جبکہ خواتین کو ہمیشہ دبا کے رکھا جاتا ہے اور قبائلی خواتین اپنے حقوق سے باخبرتک نہیں اور اگر کسی کو اپنے حقوق کا پتہ بھی ہو انکے پاس کہیں جانے کا آسرا نہ تھا لیکن اب انکے پاس بھی حق ہے کہ وہ بھی عدالت کا دروازہ کھٹکٹھا سکتی ہے۔

قبائلی اضلاع میں عدالت اور جرگہ سسٹم ساتھ ساتھ چل پائیں گے اس سوال کے جواب میں خیال زمان اورکزئی کا کہنا تھا کہ فی الحال 28 ججز قبائلی اضلاع کے لئے تعینات ہوئے ہیں اور وہ بھی قبائلی اضلاع سے باہر کام کررہے ہیں جبکہ جرگے کانظام صدیوں پرانا ہے۔

انہوں نے کہا،، میرا خیال ہے کہ اگر ججز قبائلی اضلاع میں کام کریں اور وہاں جرگے کا نظام بھی فعال رہے تو دونوں ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں، اگر ججز جرگے کے نظام کے بارے میں بھی تھوڑی بہت معلومات حاصل کرلیں اور یہ سمجھ لیں کہ جرگوں میں کس طرح فیصلے کئے جاتے ہیں تو یہ بھی اچھی بات ہے،،

وقاص شنواری نے مزید کہا کہ،، وہ فیصلے جوجرگوں کے ذریعے کسی وجہ سے حل نہ ہو پائے تھے تو وہ ان فریقینوں کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں کہ آپ کے کسیز فلاں فلاں عدالت میں ہے تو آپ اپنے لئے وکیل کرلے اور وہ فیصلے جو پہلے جرگوں میں ہوچکے ہیں لیکن وہ غیرقانونی یا ناجائز ہو تو فریقین عدالت میں جا سکتے ہیں لیکن اگر وہ صحیح طریقے سے کئے گئے ہو تو پھر اس کے خلاف کوئی عدالت سے رجوع نہیں کرسکتا۔

لبنیٰ حئی نے کہا کہ اگر قبائلی اضلاع میں بھی ڈی آر سی کی طرح جرگوں کا نظام نافذ کیا جائے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی کیونکہ اس میں ایک ممبر خاتون ہوتی ہے تو اس سے یہ ہوگا کہ خواتین کے مسائل بھی حل ہونا شروع جائیں گے، اس کے علاوہ ڈی آر سی میں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ فریقین ایک وکیل ہائر کریں تو یہ ان لوگوں کو فائدہ دے گا جو وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔

Show More
Back to top button