،،انصاف روزگار سکیم کا مقصد قبائلی اضلاع میں غربت میں کمی لانا ہے،،

خالدہ نیاز

،،قبائلی اضلاع میں شروع کیا گیا انصاف روزگار سکیم ایک پائلٹ منصوبہ ہے جس کے لئے وزیراعلیٰ کی ہدایات پر10 کروڑ فنڈ مختص کیا گیا ہے اور اس کا مقصد قبائلی اضلاع میں 73 فیصد غربت میں کمی لانا ہے،،

ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قبائلی اضلاع کے ڈاکٹروں کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر نبی آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم میں پچاس ہزار سے لے کر10 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا، اس گرانٹ میں مخصوص کیڈر ہے مثال کے طور پر جو ڈاکٹرز، انجنیئرز اور وکلاء کے علاوہ باقی لوگ ہیں جنہوں نے پروفیشنل ڈگری لی ہوئی ہے تو انکو پچاس ہزار سے لے کر10 لاکھ تک بغیر سود کے قرضہ دیا جائے گا اور یہ قرضہ تین سال میں بینک آف خیبرکے ذریعے واپس کرنا ہوگا۔

پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر نبی آفریدی کے علاوہ قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے صحافی رشید آفاق اور سماجی کارکن عائشہ مومند بھی موجود تھی۔

اس حوالے سے رشید آفاق کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا انصاف روزگار سکیم ایک بہت اچھا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے پہلے بھی کچھ لوگوں کو قرضے دیئے ہیں جس میں صحافی بھی شامل ہے تاہم انکو اچھے آئیڈیاز کی وجہ سے قرضے ملے ہیں نا کہ صحافی ہونے کی وجہ سے۔

پروگرام کے حوالے سے عائشہ مومند نے کہا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے تاہم قبائلی اضلاع کے زیادہ ترلوگ ان پڑھ ہیں اور ڈاکٹرز اور انجنیئرز بہت کم ہیں توحکومت کو چاہیئے کہ اس پروگرام میں وہ لوگ شامل کریں جنکی تعلیم کم ہے اور جو بے روزگار ہے کیونکہ ڈاکٹرز اور انجنیئرز تو پہلے سے برسرروزگار ہے۔

خواتین کسطرح اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکتی ہے اس حوالے سے عائشہ مومند نے کہا،، اگر میں اپنے علاقے مومند کی بات کروں تو بدقسمتی سے قبائلی اضلاع کی بہت کم خواتین پڑھی لکھی ہے، وہاں کی خواتین گائے اور بھینسیں پالتی ہے اور اس کے علاوہ مرغیاں بھی پالتی ہے تو اگر انکو قرضہ دیا جائے تو اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے،،

تاہم عائشہ مومند نے یہ بھی کہا کہ قرضہ دینے کے بجائے اگر حکومت قبائلی اضلاع میں کارخانے لگواتی اور خواتین کے لئے سلائی کڑھائی کے سینٹرز کھولتی تو یہ بہت اچھا ہوتا جس سے لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقعے مل جاتے۔

ڈاکٹر نبی آفریدی نے مزید کہا کہ یہ پروگرام مائیکرو فنانس کے اصولوں پر بنایا گیا ہے اور یہ سکیم ٹرائل کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے اگر یہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اسکو وسیع کیا جائے گا۔

ڈاکٹر نبی آفریدی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس پروگرام میں صرف ڈاکٹرز یا انجنیئرز کو فائدے ملے گے بلکہ اس سے اور لوگوں کو بھی قرضے ملیں گے جن کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیاہے۔

،، جو لوگ ڈاکٹرز یا انجینئرز ہیں تو انکو اس لئے زیادہ پیسے ملیں گے کیونکہ جب وہ کلینک کھولیں گے یا اور کوئی دفتر کھولیں گے تو انکو زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوگی، جن کے پاس ٹیکنیکل یا کوئی اور ڈپلومہ ہو تو انکو پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ تک روپے کا قرضہ دیا جائے گا جبکہ عام لوگ جن کے پاس نہ کوئی ہنر ہو اور نہ تعلیم تو انکو پچاس ہزار سے لیکر تین لاکھ تک کا قرضہ دیا جائے گا،،

قرضہ حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کو طریقہ کار بتاتے ہوئے ڈاکٹر نبی آفریدی نے کہا کہ اس کے لئے دو ضمانتیوں کا ہونا ضروری ہے جس میں شرط یہ ہے کہ ان دو ضمانتیوں میں سے ایک وفاقی یا صوبائی گزٹ افسر ہو۔

دوسری جانب رشید آفاق نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انضمام سے پہلے ملک تصدیق کے لئے 100 سے لیکر 500 روپے تک لیتا تھا اب سرکاری افسر سے تصدیق کرنا ضروری ہے تو قبائلیوں کے لئے اس میں مشکلات ہونگی۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عائشہ مومند نے کہا غریب عوام کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ کسی سرکاری افسر سے تصدیق کروائیں کیونکہ سرکاری افسر بلا کیوں غریب کی ضمانت لے گا؟

ڈاکٹر نبی آفریدی نے کہا کہ یہ پروگرام سارے قبائلی اضلاع میں شروع ہوگیا ہے اور اس کا فارم بینک آف خیبرسے حاصل کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ خواہشمند حضرات متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے بھی یہ فارم حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر نبی آفریدی نے بتایا کہ یہ قرضہ ان لوگوں کو نہیں مل سکتا جو سرکاری ملازم ہیں، طالبعلم ہیں یا پہلے سے کسی بینک سے قرضہ لے چکا ہوں۔

عائشہ مومند نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کے لئے اس سکیم کی شرائط میں نرمی کریں کیونکہ سرکاری افسر سے ضمانت لینا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

Show More
Back to top button