فاٹا انضمام کو سال بیت گیا، قبائل نے کیا کھویا کیا پایا

محراب شاہ آفریدی

سابق فاٹا کے صوبہ خیبر میں انضمام کو ایک سال کا عرصہ بیت گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے فاٹا مرجر کے حوالے سے 25ویں آئینی ترمیم بل کو پہلے قومی اسمبلی اور بعد ازاں سینیٹ سے جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبائی اسمبلی سے بروز اتوار پاس کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی تھی اور اس طرح ایک صدی سے زائد عرصہ سے قبائلی علاقوں پر مسلط انگریز کے ظالمانہ اور کالے قانون ایف سی آر کا خاتمہ کر دیا گیا۔

بلاشبہ پاکستان کی فوج کو بھی اس کا کریڈیٹ جاتا ہے جس نے ایف سی آر کے خاتمے اور اصلاحات کی مکمل اور کھل کر حمایت کی۔

ایف سی آر خاتمے کے لئے تو ویسے بہت طویل سیاسی تحریکیں چلائی گئیں اور آخر کار مسلم لیگ ن کی حکومت میں اس کالے قانون کا خاتمہ کر دیا گیا۔

اگرچہ ایف سی آر کے خلاف کبھی مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے آواز بلند نہیں کی لیکن اس نظام کا خاتمہ ان کے دور حکومت میں ہوا جس کا کریڈیٹ ان ہی کو جاتا ہے۔

قبائلی اضلاع صوبہ خیبر پختون خوا میں ضم تو کر دیے گئے اور عین اس وقت قبائلی عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ دس سالوں میں قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی اور قبائلی عوام کی خوشحالی، نوجوانوں اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار دینے کی غرض سے ایک ہزار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے تاہم ابھی تک قبائلی علاقوں کو پہلی قسط بھی نہیں ملی۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قبائلی عوام کو انضمام کی صورت میں لینے کے دینے پڑ گئے صرف اس حد تک قبائلی علاقوں میں تبدیلی محسوس کی جارہی ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اسسٹنٹ کمشنر بن گئے اور ایک طویل احتجاجی دھرنے کے بعد خاصہ دار فورس کو پولیس فورس میں تبدیل کر دیاگیا اس سے آگے قبائلی علاقوں میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی جا رہی ہے۔

بظاہر تو ڈپٹی کمشنر نے چیک پوسٹوں کے امور اور قبائلی پولیس اہلکاروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ کے اختیارات سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے لیکن بعض جگہوں پر اب بھی بعض اسسٹنٹ کمشنر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور یہی پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں کہ آئی جی آر نامی عبوری قانون دوبارہ بحال ہو رہا ہے جس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ وہ اب بھی سارے اختیارات کے مالک ہیں حالانکہ ان کے پاس اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ ابھی تک عمران خان کی مرکزی حکومت باقی چار صوبوں کو قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنا اپنا تین فیصد حصہ دینے پر بھی رضامند نہیں کرسکی اور صوبہ خیبر پختون خوا کے علاوہ باقی کوئی صوبہ اس کے لئے تیار نہیں کہ وہ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے لئے تین فیصد حصہ دے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی اعلیٰ درجے کی سیاسی قیادت منافقت سے کام لے رہی ہے۔

سیاسی قیادت ایک طرف تو قبائلی عوام کی ملک کی خاطر قربانیوں کا اعتراف کرتی اور کہتی رہی ہے کہ قبائلی عوام محب وطن اور اس دھرتی کی سرحدات کے بلا معاوضہ سپاہی اور محافظ ہیں لیکن جب قبائلی عوام کی خدمت، ترقی و خوشحالی کی بات آجائے تو پھر کوئی صوبہ یا مرکزی حکومت اس کے لئے تیار نہیں کہ وہ عملاً آگے بڑھ کر قبائلی علاقوں کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ترقی اور دیگر صوبوں کے عوام کی خوشحالی کے لئے ہمیشہ قبائلی عوام کا استحصال کیا گیا ہے اور قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے ملنے والے بیرونی اور اندرونی فنڈز بھی دیگر علاقوں میں خرچ ہو ئے ہیں جس کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف اطراف سے آوازیں اٹھیں کچھ ہی عرصہ پہلے صوبہ خیبر پختون خوا کی وزارت صحت نے تمام قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کو احکامات جاری کئے تھے کہ خالی آسامیوں کر فی الفور پر کرنے کے لئے اخبارات میں اشتہارات شائع کریں اور اس طرح ہوا بھی لیکن عین موقع پر صوبائی وزیر صحت نے مشتہر آسامیوں پر بھرتی کا عمل بلا وجہ منسوخ کر دیا جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔

غرض ہر ڈیپارٹمنٹ میں ہزاروں خالی آسامیوں پر بھرتی کے دعوے تو ہر سطح پر کئے گئے لیکن عملاً کچھ بھی نہیں ہوا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ انضمام سے ملنے والے ثمرات ہاتھی کے دکھانے والے دانت ہیں جبکہ کھانے والے کچھ اور ہیں اور کوئی اور ہی انہیں نوش کرنے میں مصروف یا اس مقصد کیلئے اپنے پر تول رہا ہے۔

دوسری طرف کچھ عناصر اب بھی واویلا مچائے ہوئے ہیں کہ وہ انضمام کے اس عمل کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے جس کا مطلب ہے کہ وہ آئین پاکستان کوتسلیم نہیں کرتے کیونکہ اب قبائلی اضلاع آئینی اور قانونی طور پر صوبہ خیبر کا حصہ بن چکے ہیں اور اگر انضمام کے مخالفین اس حقیقت کو نہیں مانتے تو پھر ان سے یہ سوال کم از کم ضرور بنتا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے لئے کیونکر انہوں نے کاغذات جمع کیے ہیں، کیا ان کو صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہئے۔

بہرحال ایک ڈرامہ چل رہا ہے جس کی سمجھ زیادہ ترلوگوں کو نہیں۔

باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ حکومت وقت کے پاس مالی وسائل کی سخت کمی ہے اس لئے وہ قبائلی عوام کو سبز باغ دکھا تو رہی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں دے سکتی۔

مجھے تو یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر مرکزی اور صوبائی حکومتیں اسی طرح مالی وسائل قبائلی اضلاع کو فراہم کرنے میں ناکام رہیں تو انضمام کا یہ عمل ہی ریورس کیا جا سکتا ہے اور اس کے اشارے ملنا شروع ہو گئے ہیں مثلاً 26  ویں آئینی ترمیم اگر سینیٹ سے بھی پاس ہوئی تو اس کے نتیجے میں قبائلی اضلاع کے اندر صوبائی اسمبلی کے انتخابات مؤخر کئے جا سکتے ہیں اور اگر یہ بل سینیٹ سے پاس نہیں ہو سکا تو پھر دو جولائی کو صوبائی نشستوں پر انتخابات ہونگے۔

یہ کہنا بالکل بھی بے جا نہیں کہ قبائلی عوام کو فی الحال انضمام سے کوئی فائدہ نہیں ملا بلکہ الٹا نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں، انضمام کی وجہ سے قبائلی عوام کی اجتماعیت بکھرکر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، زیادہ تر لوگ پرانی پولیٹکل انتظامیہ کو یاد کرتے ہیں جس میں بہت کچھ ممکن تھا اور اگر ایف سی آر کی جگہ آئی جی آر نافذ کیا گیا تو یہ ایف سی آر سے بد تر اور ظالمانہ قانون ہوگا اور شاید یہی وجہ تھی کہ عدالت نے اس کو کالعدم قرار دیا تھا۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button