،،ساڑھے چار ارب روپے میں 700 منصوبے مکمل ہونا ناممکن ہے،،

 

عثمان خان

،،ہمارے سکول تباہ ہوچکے ہیں، ہمارے بچے خیموں میں پڑھائی کرنے پر مجبور ہیں لہذا میں کہتا ہوں کہ حکومت نے قبائلی اضلاع کی ترقیاتی منصوبوں کے لیے جن پیسوں کومختص کیا ہے اس کوصحیح جگہ پر خرچ کیا جائے تاکہ ہمارا مستقبل محفوظ ہوسکے،،

ان خیالات کا اظہار قبائلی ضلع خیبرسے تعلق رکھنے والے عوامی انقلابی لیگ نامی سیاسی پارٹی کے چیئرمین ملک عطاء اللہ خان نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔

ملک عطاء اللہ خان کا کہنا تھا تعلیم کے بعد ہمارے علاقے کا بنیادی مسئلہ پینے کی صاف پانی کا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس پر بھی توجہ دیں۔

پینل ڈسکشن میں ملک عطاء اللہ خان کے علاوہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کی تنظیم ٹرائبل یوتھ ڈیویلپمنٹ کے رکن حنیف وزیر بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع میں چار مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ساڑھے چار ارب روپے کا فنڈ مختص کیا ہے، ان چار شعبوں تعلیم، صحت، پانی کا صاف پانی اور آب پاشی کا نظام شامل ہیں۔

اس حوالے سے حنیف وزیر کا کہنا تھا کہ مذکورہ چار شعبوں میں میں بھی ترقیاتی کام وقت کی اشد ضرورت ہے تاہم انکے علاقے شمالی وزیرستان میں تو گھر بھی تباہ حال پڑے ہیں۔

انہوں نے کہا،، اگر میں وزیرستان کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ ٹھیک ہے حکومت ہمارے لیے سکول اور ہسپتال بنا رہے ہیں لیکن بچے تب سکول جاسکیں گے جب وہ اپنے گھروں میں ہونگے، یہ ٹھیک ہے کہ حکومت نے وزیرستان میں مارکیٹس دوبارہ بنالیے ہیں تاہم نواحی کے زیادہ ترلوگ اب بھی خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں لہذا میں چاہتا ہوں کہ پہلے وزیرستان میں لوگوں کے گھر بنائے جائیں پھر باقی شعبوں میں ترقیاتی کام کروائیں جائیں،،

ایک سوال کے جواب میں ملک عطاء اللہ خان نے کہا کہ اگرچہ اس فنڈ میں قبائلی ضلع خیبر کے لیے کم پیسے رکھے گئے ہیں تاہم میں چاہتا کہ کم ہی سہی مگر یہ صحیح طریقے سے خرچ ہونے چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا،، اب اگر ہم اس بحث میں پڑ جائیں کہ اورکزئی، باجوڑ اور شمالی وزیرستان کے لیے زیادہ پیسے مختص کیے گئے ہیں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا، باقی قبائلی اضلاع کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہے وہ بھی متاثرین ہیں ان کا بھی ان پیسوں پر حق ہے،،

ملک عطاء اللہ خان نے کہا کہ ان ساڑھے چار ارب روپے سے بات نہیں ہونگی ہمارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ قبائلی اضلاع کو دس سال تک سو سو ارب روپے دیئے جائیں گے تاہم سال ہونے کو ہے اور ابھی تک ہمیں وہ سو ارب روپے نہیں ملے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بجٹ کے دوران ہمارے لیے یہ سو ارب روپے منظورکئے جائیں۔

پانی کے مسئلے کے حوالے سے ملک عطاء اللہ خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پورے قبائلی اضلاع میں واٹر ریسورس منیجمنٹ اتھارٹی بنایا جائے۔

پانی کے مسئلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حنیف وزیر نے کہا،، میں نے پچھلے دنوں لنڈی کوتل کا دورہ کیا تھا جہاں میں نے دیکھا کہ ہماری خواتین دو دو تین تین کلومیٹر دور سے پانی لارہی تھی، اسی طرح ہمارے وزیرستان کے زیادہ تر علاقوں میں بھی پانی کے اور باقی مسائل موجود ہیں۔

فاٹا سیکرٹریٹ کی آر آر یونٹ نے ان ساڑھے چار ارب روپے کے لیے 700 منصوبوں کی نشاندہی کی ہے۔

اس حوالے سے حنیف وزیر نے کہا کہ جب باقی علاقوں میں ایک سکول بنایا جاتا ہے تو جب اس پر ایک کروڑ روپے لگتے ہیں تو بدقسمتی سے وہ سکول قبائلی اضلاع میں دس کروڑ روپے پہ بنتا ہے تو میرا نہیں خیال کہ ساڑھے چار ارب روپے میں 700 منصوبے مکمل ہوجائیں گے اگر ان پیسوں میں 100 منصوبے بھی مکمل کرلئے جائیں تو بڑی بات ہوگی۔

ملک عطاء اللہ خان نے کہا یہ پیسے منصوبوں پر خرچ کرنا ضلعی انتظامیہ کا کام نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کے لیے ایک آزاد اتھارٹی بنائی جائے جو پہلے یہ دیکھیں کہ یہ پیسے کہاں لگنے چاہیے۔

یہ فنڈ کس طریقہ کار کے تحت خرچ ہونے چاہئیے اس حوالے سے حنیف وزیر کا کہنا تھا حکومت کو چاہیے کہ ہر ضلع کی ہر تحصیل میں ایک کمیٹی بنائیں، کمیٹی کے ممبران کو پھر ڈی سی اور اے سی کے دفتر میں بلایا جائے اور ان سے پوچھا کہ انکے علاقے میں کون کون سے کام کئے جائیں۔

،، مثال کے طورپر وزیرستان میں نئے سکول بنانے کی بھی ضرورت نہیں ہے بس جو ہے انکو فنکشنل کیا جائے، اگر اورکزئی کی بات کروں تو وہاں ایک ہائی سکول ہے جس میں صرف ایک اسلامیات کا استاذ ہے جو بائیو اور حساب کے علاوہ باقی مضامین بھی پڑھاتا ہے تو اس سے نقصان کس کا ہورہا ہے؟،،

قبائلی اضلاع میں سرکاری ڈیوٹیاں صحیح طریقے سے نہ کرنے کے حوالے سے ملک عطاء اللہ خان نے کہا دوسرے حصوں سے افراد کو لانے کی بجائے اگر مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور ڈیوٹیاں کرنے والوں کو سہولیات دی جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

 

 

Show More
Back to top button