شمالی وزیرستان، بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو ایف سی اہلکار شدید زخمی

شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو ایف سی اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ تحصیل دتہ خیل کے علاقے منظر خیل برزئی میں سرچ پارٹی پر کیا گیا جس کے نتیجے میں شوال رائفلز کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

زخمیوں میں نائک ظہور اور سپاہی قیصر شامل ہیں جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ پانچ روز کے دوران پیش آنے والا دہشت گردی کا یہ تیسرا واقعہ ہے، رواں مہینے کی 7 اور 8 تاریخ کو یکے بعد دیگرے ریموٹ کنٹرول اور بارودی سرنگ کے دھماکوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو شہیداور زخمی کیا گیا۔

7 جون کو شمالی وزیر ستان کے علاقے خڑ کمر میں بارودی سرنگ  کے دھماکے میں پاک فوج کے تین افسران اور ایک اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے خڑ کمر میں فوجی گاڑی کو دہشت گردوں نے سڑک پر نصب بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا جس کے باعث ایک لیفٹیننٹ کرنل، ایک میجر اور ایک کیپٹن سمیت ایک جوان شہید جب کہ چار اہلکار زخمی ہوئے۔

اسی طرح 8 جون کو شمالی وزیرستان ہی میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو اہلکار شہید جبکہ تین زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع کے مطابق فورسز کا ایک دستہ تحصیل دتہ خیل کے علاقے دیگان میں معمول کی گشت پر تھا جہاں اس کی گاڑی کو دھماکے سے اڑایا گیا تھا۔

گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔

اس حوالے سے ایک باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ایک ماہ کے لیے ضلع بھر میں غیر مقامی افراد کا داخلہ بھی ممنوع جبکہ ضلع کی حدود میں تمام تر اجتماعات، ریلیوں اور جلوسوں کے علاوہ قابل اعتراض تقریروں پر مکمل پابندی ہوگی۔

علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ گاڑیاں میں کالے شیشے کے استعمال اور 5 سے زیادہ افراد کے اجتماع پر بھی پابندی ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق خلاف ورزی کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ نے صوبائی انتخابات ملتوی کرنے کیلئے محکمہ داخلہ امور و قبائلی علاقہ جات کو مراسلہ بھی بھیج دیا ہے۔

دوسری جانب خڑ قمر میں فوج پر دھماکے کے بعد مسلسل کرفیو نافذ ہے اور  مداخیل، خدر خیل اور منظر خیل کے عوام 5 دنوں سے گھروں میں محصور ہیں۔

اس حوالے سے علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ہمیں گھروں سے باہر نکلنے دیا جا رہا ہے نہ ہی مریضوں کو ہسپتال جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 سے 7 ہزار خاندان 5 دنوں سے محصور ہیں جبکہ راشن سمیت دیگر اشیائے ضروریہ بھی ختم ہوچکی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے سے کرفیو فوری طور پر اٹھاتے ہوئے ان کی مشکلات دور کی جائیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

Back to top button