ٹیکس کا نفاذ، قبائلی اضلاع کے رہنماؤں کی اسلام آباد لاک ڈاؤن کی دھمکی

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کا کہنا ہے کہ بجٹ میں قبائلی اضلاع پر عائد ٹیکس واپس لیا جائے ورنہ اسلام آباد کو بند کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان بنا ہے سابق ملاکنڈ ایجنسی اور فاٹا میں کسٹم ایکٹ لاگو نہیں تھا تاہم 1997 میں کسٹم ایکت نافذ کیا گیا۔

شاہ جی گل نے کہا کہ اسی نقصان کی وجہ تھی کہ ان علاقوں پر دہشت گردی ک الیبل چسپاں کیا گیا اور ہمیں عالمی سطح پر مفلوج چھوڑ دیا گیا، اگر ایک طرف ہم نے دہشت گردی کو برداشت کیا تو دوسری جانب کسٹم ایکٹ کے باعث لوگ بیروزگار ہوئے کیا یہ وہ نیا پاکستان ہے؟

سابق رکن قومی اسمبلی کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ قبائلی اضلاع سے پانچ سالوں تک ٹیکس وسول نہیں کیا جائے گا، اگرچہ ہمارا مطالبہ بیس سالوں کیلئے تھا تاہم حکومت فیصلہ ہم نے پھر بھی قبول کیا، عمران خان جو بات کرتے جو وعدہ کرتے ہم اس پر یقین کرلیتے تھے لین آج عمران خان پشتونوں کو بے روزگار کررہے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ پشتونوں کے منہ سے مزید نوالہ نہ چھینا جائے۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام ف کے ایم این اے مفتی عبدالشکور نے کہا ہے کہ قبائلی عوام کے ساتھ ظلم کے اوپر ظلم ہورہا ہے، اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجاَ اسلام آباد کو بند کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ تاہم قبائلی عوام کے مفاد کیلئے ہم سب ایک ہو کر اس ظالمانہ ٹیکس کا خاتمہ کریں گے۔

مفتی عبدالشکور نے کہا کہ عمران خاان کنٹینر پر کھڑے ہو کر جو وعدے کرتے رہے انہیں پورا کریں ایسا نہ ہو ہماری جدوجہد آپکی حکومت کو چلتا ہی کردے۔

اسی طرح نامور قانون دان لطیف آفریدی نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو پاک افغان شاہراہ بند کردیں گے، علاقے مین پہلے سے ہی کرفیو ایسی کیفیت ہے، مزید ٹیکس سے کارخانے بند ہو جائیں گے اس لیے قبائلی علاقوں کو ٹیکس سے مستثنٰی قرار دیا جائے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

Back to top button