قبائلی اضلاع میں سیاحت کو کیسے فروغ مل سکتا ہے؟

 

عثمان خان

اس سال چھوٹی عید کے موقع پر سیاحوں نے نہ صرف کالام اور سوات کا رخ کیا بلکہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے نئے قبائلی علاقوں کی خوبصورتی نے بھی بہت سارے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیا۔

اس حوالے سے ٹور گائیڈ شفیق گگیانی کا کہنا ہے سیاحوں نے اس سال قبائلی اضلاع کا رخ اسی لئے کیا کہ اب یہ علاقے خیبرپختونخوا میں ضم ہوچکے ہیں۔

ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شفیق گگیانی کا کہنا تھا کہ ،، پہلے قبائلی اضلاع میں سیاحت کا کوئی ادارہ نہیں تھا، حکومت نے بھی قبائلی اضلاع میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے تھے لیکن اب خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد صوبائی حکومت وہاں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کررہی ہے، اب سیاحت کے حوالے سے صوبائی حکومت ٹوارزم اتھارٹی بھی قائم کررہی ہے جوکہ سیاحت کے لئے نئی جگہوں کی نشاندہی کرے گی تو اس وجہ سے اب سیاح بھی ان علاقوں کا رخ کررہے ہیں،،

انہوں نے کہا اس مرتبہ سیاحوں نے باجوڑ، تیراہ، مومند اور باقی ضلعوں کا بھی رخ کیا اورامید ہے کہ اب قبائلی اضلاع میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔

پینل ڈسکشن میں قبائلی اضلاع میں سیاحتی مقام کی نشاندہی کرنے والا صحافی جواد یوسفزئی اور شخصی بنیادوں پر قبائلی اضلاع میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ضلع کرم سے تعلق رکھنے والا سبحان علی بھی شریک تھے۔

قبائلی اضلاع میں سیاحت کے مستقبل کے حوالے سے جواد یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بہت سی خوبصورت جگہیں ہیں جوکہ سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا،، اگر جنوبی وزیرستان کی بات کروں تو وہاں رزمک، مکین، لدھا اور کانیگورم ایسی جگہیں ہیں جہاں سیاحت فروغ پاسکتا ہے کیونکہ یہ بہت خوبصورت ہیں، شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں ڈیزاسٹر ٹوارزم کو فروغ مل سکتا ہے، اسی طرح کرم ضلع میں ڈوگر، باغ لیلا اور حیدر زمان فورٹ دیکھنے کی جگہیں ہیں، سمانہ ٹریک بھی سیاحوں کے لئے منفرد جگہ ہوگی ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت ان جگہوں کو سہولیات دیں کہ یہاں سیاح آئیں اور سیاحت فروغ پائیں،،

اس حوالے سے سبحان علی کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع اور خاص طور پر کرم ضلع میں بہت سی ایسی جگہیں ہیں جہاں سیاحت پروان چڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا،، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم نے سیاحت کو صرف اس حد تک محدود کردیا ہے کہ گاڑی میں بیٹھ کرنکل جاتے ہیں اور موسیقی لگاکر ڈانس کرلیتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ جب ہم کسی جگہ کو منتخب کرکے وہاں سیرکے لئے جائیں تو جاکر وہاں کی ثقافت کو دیکھیں، لوگوں کے رہن سہن روایات کو دیکھیں، کرم کی اگر بات کروں تو وہاں پرمزارات بہت ہے تو سیرکے لئے آئے ہوئے لوگ اگر اسکی تاریخ کے بارے میں جان لیں تویہ اچھی بات ہوگی،،

سبحان علی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کرم ضلع میں شلوزان، ملانہ، عالم شیر اور کرمان سیاحت کی جگہیں ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کرم میں ٹور گائیڈ نہیں ہے تو حکومت کو چاہیئے کہ اس طرف توجہ دیں اور اس کے علاوہ ان جگہوں کی صفائی کا بھی انتظام کریں کیونکہ صفائی بھی بہت ضروری ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شفیق گگیانی کا کہنا تھا کہ سیاحت کے لئے خوبصورت جگہوں اور ٹھنڈے موسم کا ہونا ضروری نہیں ہے، سیاحوں کی اپنی قسمیں ہوتی ہے، اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمارے یہاں سیاح ماحول کو دیکھتے ہیں کہ وہ جہاں جائیں وہ ماحول سیرکے قابل ہوں۔

،، مثال کے طور پر اگر گلیات کو دیکھا جائے تو انہوں نے باقاعدہ ایک اتھارٹی بنائی ہوئی ہے جو نہ صرف صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے بلکہ وہ وہاں کے سڑکوں کو دیکھتے ہیں اور اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ لوگوں کی حفاظت بھی یقینی ہوں،،

جواد یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان بحال ہونے کی وجہ سے سیاحوں نے قبائلی اضلاع کا رخ کیا۔ جواد یوسفزئی نے کہا،، میں چند دن پہلے وزیرستان کی کچھ تصاویر دیکھ رہا تھا جس میں سیاحوں نے کیمپنگ کی ہوئی تھی جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے وہاں رات بھی گزاری، وہ وزیرستان جہاں پہلے حالات ٹھیک نہیں تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں امن بحال ہوچکا ہے اور لوگ بھی چاہتے ہیں کہ یہ نئی جگہیں دیکھیں،،

سبحان علی نے بھی جواد یوسفزئی کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں حالات ٹھیک ہونے کی وجہ سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ یہ علاقے دیکھیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پہلے ان علاقوں کو نو گو ایریا کہا جاتا تھا لیکن اب لوگ یہ علاقے دیکھنے کے خواہش مند ہے اور اس سال کرم ضلع میں بہت سے سیاح آئیں کیونکہ دیکھنے کے لئے یہ نئی جگہیں بھی ہے۔

شفیق گگیانی نے کہا قبائلی اضلاع میں سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ وہاں پرمارکیٹس، کیمپنگ، ٹریکنگ، ہسپتال اور باقی سہولیات دی جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی حالت کو بھی بہتربنایا جائے۔

انہوں نے کہا،، قبائلی اضلاع میں سوشل میڈیا بھی سیاحت کو فروغ دینے کے لئے اہم کردار ادا سکتا ہے لیکن پہلے وہاں تھری جی اور فور جی کی سہولت دینے پہ کام ہونا چاہئے، دوسری بات یہ ہے کہ جب سیاح کسی علاقے کا رخ کرتے ہیں تو انکو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے تو مقامی لوگوں کو چاہیئے کہ وہ سیاحوں کو خوش آمدید کہے اور انکے ساتھ صحیح طریقے سے پیش آئیں،،

جواد یوسفزئی نے کہا کہ فوٹوگرافی کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی سیاحت کو فروغ دینے میں کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ جب تک مقامی لوگ سیاحت کو خوش آمدید نہیں کہیں گے تب تک اس علاقے میں سیاحت کو ترقی نہیں مل سکتی، اس کے علاوہ ہرسیاحتی علاقے میں پفلٹ یا کتابچے بھی بہتریں ثابت ہوسکتے ہیں کہ سیاح اس سے رہنمائی لے سکے۔

سبحان علی نے کہا قبائلی اضلاع کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں جو مہمانوں کی عزت کرتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو بھی چاہیئے کہ وہ قبائلی روایات اور اقدار کا خیال رکھیں کیونکہ اگر وہ انکے روایات اور مذہبی اقدار کا خیال نہیں رکھیں گے تو مقامی لوگوں کی جانب سےبھی انکو وہ عزت اورمہمان نوازی نہیں مل پائے گی جسکی وہ امید رکھتے ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button