،،انضمام کے حوالے سے حکومت درست سمت میں نہیں جارہی،،

 

خالدہ نیاز

،،قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے جلدبازی میں کیاگیا، انضمام کے لئے کئے جانے والے اصلاحات پر صحیح طریقے سے کام نہیں کیا گیا تھا، پی ٹی آئی حکومت معاشی مسائل کے باوجود قبائلی اضلاع کی ترقی کےلئے کام کررہی ہے پریہ کام تسلی بخش نہیں ہے،،

ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک سے تعلق رکھنے والے قبائلی ضلع خیبرکے محمد شفیق آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام بدلون کے پینل ڈسکشن میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں انضمام سے پہلے ایف سی آرکا نظام تھا جس کے تحت گنے چنے افراد جس میں پولیٹیکل ایجنٹ اور ملکان شامل تھے ان کو اختیاراتحاصل تھے اور عام لوگ اپنی بنیادی ضروریات سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہماری سوچ تھی کہ انضمام کے بعد لوگوں کو تعلیم، صحت اور باقی شعبوں میں سہولیات دی جائے گی لیکن بدقسمتی سے قبائلی عوام کو انضمام کے خاطرخواہ فوائد ابھی تک نہیں ملے۔

پینل ڈسکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اور ٹرائبل یوتھ جرگہ کے ممبر اکبرعلی اور سینیئرقبائلی صحافی رسول داوڑ بھی موجود تھے۔

قبائلی اضلاع کے خیبرپختونخوا میں انضمام کو ایک سال بیت گیا ہے، اب تک عام قبائلی عوام کو انضمام کا کتنا فائدہ ہوا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اکبرعلی کا کہنا تھا کہ انضمام پرعمل درآمد کے حوالے سےحکومت  درست سمت میں نہیں جارہی اور لوگوں کی تحریک انصاف سے بہت امیدیں تھی تاہم بدقسمتی سے حکومت نے قبائلی لوگوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا،، حکومت نے اعلان کیا تھا کہ قبائلی اضلاع کو این ایف سی ایوارڈ میں 100 ارب روپے دیئےجائیں گے لیکن ابھی تک نہیں دیئے جاسکے حکومت کبھی کہتی ہے کہ سندھ راضی نہیں ہے، کبھی کہتی ہے کہ بلوچستان راضی نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ حکومت شوگرملوں پر500، 500 ارب سبسڈی دے سکتی ہے تو اگر ایسا کریں کہ حکومت اپنی طرف سے قبائلی اضلاع کو سو ارب روپے فراہم کریں پھرجب صوبے این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں آپس میں متفق ہوجائیں تو حکومت قبائلی اضلاع کو ملنے والے پیسے اپنے پاس رکھ لیں،،

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کی کوشش ہے کہ قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات بھی نہ ہوں اور انتخابات رکوانے کے لئے وہ مختلف ہربے استعمال کررہی ہے۔ اکبرعلی کے مطابق اگرحکومت قبائلی عوام کے ساتھ مخلص ہوتی تو وہ 26 ویں آئینی ترمیمی بل پہلے اسمبلی میں پیش کرتی نہ کہ انتخابات سے چند دن قبل۔

اسی سوال کے جواب میں رسول کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے انضمام کا عمل تیزی سے آگے جارہا تھا کیونکہ عدالتوں نے بھی قبائلی اضلاع میں کام شروع کردیا اس کے علاوہ لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں بھی ضم کردیا گیا لیکن بدقسمتی سے اب انضمام کا عمل سست روی کا شکارہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا،، ہمارا خیال تھا کہ انضمام کا عمل بہت تیز ہے اور پانچ سال سے پہلے قبائلی اضلاع کے انضمام کا عمل مکمل ہوجائے گا، پورے پاکستان میں ایک جیسا قانون نافذ ہوجائے گا اور جب ایک جیسا قانون ہوگا تو مشکلات حل ہوجائیں گے،،

رسول داوڑ نے کہا کہ پچھلے دنوں جنوبی وزیرستان میں کلرکس ایسوسی ایشن نے احتجاج کیا تھا جس میں ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انکو بتایا جائیں کہ ہمارا کام اور اختیارات کیا ہے؟ آئی جی نے بھی کہا تھا کہ وہ وزیرستان کا دورہ کریں گے اور عملی طور پر قبائلی اضلاع میں پولیس کو اختیارات دینے کے حوالے سے کام کریں گے تاہم ابھی تک کچھ نہ ہو سکا۔

قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد ان علاقوں تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھا دیا گیاہے، خاصہ دار اور لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا جاچکا ہے، آر ٹی آئی ایکٹ کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی جاچکی ہے، اس کے علاوہ قومی اور صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی نشستیں زیادہ کرنے کے حوالے سے بل اسمبلی میں پیش کیا جاچکا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ صحت انصاف روزگارسکیم اور صحت انصاف کارڈ جیسی سہولیات بھی قبائلی عوام کو دی جاچکی ہے۔

قبائلی اضلاع تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے کے حوالے سے محمد شفیق آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے پہلے قبائلی اضلاع میں جرگوں کے ذریعے فیصلے کئے جاتے تھے اور ایسا بھی ہوتا تھا کہ بااثر لوگوں کی بات مان لی جاتی تھی اور غریبوں کی نہیں سنی جاتی تھی۔

انہوں نے کہا،، میں ایک مثال دیتا ہوں، باڑہ میں سپورٹس کمپلکس کے لئے قومی زمین کے لئے حکومت کی جانب سے بارہ کروڑروپے منظور کئے گئے تھے، ایک قبضہ مافیا نے وہ رقم ملی بھگت کے ذریعے نکال لی تھی لیکن اب اس کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر ہوگئی ہے، اگر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی اضلاع تک نہ بڑھایا گیا ہوتا تو مشکل تھا کہ ان متاثرین کو اپنا حق مل پاتا،،

محمد شفیق آفریدی نے یہ بھی کہا ابھی بھی قبائلی اضلاع میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن میں اصلاحات کی ضرورت ہے، مثال کے طور لینڈ ریفارمز پانی کے مسائل۔

ایک سوال کے جواب میں رسول داوڑ نے کہا کہ اصلاحات میں صوبے کی سطح پر رکاوٹ گورنر ہاؤس ہے کیونکہ گورنر اب بھی قبائلی اضلاع کے اختیارات پر بیٹھا ہے، اس کے علاوہ وہاں پر ضلعی انتظامیہ میں جو لوگ بیٹھے ہیں وہ بھی اختیارات کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پولیس نظام کو بھی اچھی نظرسے نہیں دیکھتے کیونکہ اس سے انکو ملنے والے مراعات ختم ہوگئے ہیں۔

اکبرعلی کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت قبائلی اضلاع کے انضمام کے عمل کو آگے لے جانے میں سنجیدہ نہیں ہے تاہم امید ہے کہ ایک سال بعد حالات بدل جائیں گے اور اگر قبائلی عوام کے ساتھ ناانصافی کی گئی تو قبائلی نوجوان اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔

Show More
Back to top button