سولرائزیشن نظام قبائلی اضلاع کے لئے کس قدرفائدہ مند ہے؟

ناہید جہانگیر

،،سولرائزیشن کا نظام ہمارے قبائلی علاقوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے، اس ںظام کی ہمارے گھروں، مسجدوں اور سکولوں کو ضرورت ہے، اس سے ایک تو پانی میسر ہوجاتا ہے دوسرا اس سے پنکھے بھی چلائے جاسکتے ہیں اور روشنی کا بھی انتظام کیا جاسکتا ہے،،

ان خیالات کا اظہارایک فلاحی تنظیم کے چیئرمین صحبت خان آفریدی نے ٹی این این کے پروگرام منزل پہ لور کے پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔

پینل ڈسکشن میں شمسی توانائی کے تکنیکی ماہرسہیل خان اور قبائلی خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سکینہ مومند بھی شریک تھی۔

صحبت خان آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ اگر قبائلی علاقوں کو دیکھا جائے تو 80 فیصد علاقے پہاڑی ہے جبکہ باقی میدانی ہے تو ان پہاڑی علاقوں کی خواتین دور دور جگہوں سے اور چشموں سے اپنے سروں پرپانی لاتی ہے تو اگرہمارے علاقوں میں سولرائزیشن والا نظام مل جائیں تو بہت اچھا ہوگا، پانی کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور باقی مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا،، یہ ایک جدید نظام ہے اور میری تو خواہش ہے کہ پورے پاکستان میں سولرائزیشن کا نظام ہوں کیونکہ یہ بہت فائدہ مند ہے،،

اس حوالے سے سکینہ مومند کا کہنا تھا کہ ،،خیبرضلع میں تو پھربھی ٹیوب ویل اور کنویں ہیں تاہم انکے علاقے مہمند میں تو سارا علاقہ پہاڑی ہے اور کنویں 70، 80 گز زیرزمین ہے اور خواتین پانی بالٹی اور رسی کے ذریعے نکالتی ہے تو اگر سولرائزیشن نظام کے ذریعے پانی نکالنے کا انتظام ہوجائے تو سب سے پہلے خواتین کی مشکلات میں کمی آجائے گی،،

ایک سوال کے جواب میں صحبت خان آفریدی کا کہنا تھا قبائلی علاقے زیادہ ترپہاڑی ہے اور پہاڑی علاقوں میں پانی اتنا ضائع نہیں ہوتا جتنا میدانی علاقوں میں ہوتا ہے، ہمارے علاقوں میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے البتہ ایسا ہے پانی کی سطح بہت نیچے ہے، نہ ہی حکومت اور نہ ہی کسی این جی او نے اس پہ کام کیا ہے کہ ہمارے پانی کو محفوظ کیا جائے مستقبل کے لئے اور پانی ضائع نہ ہو۔

انہوں نے کہا،، اگر ہمیں ٹینکیاں دی جائیں اور گھروں تک پائپ لائن کا انتظام کیا جائے تو اس سے نہ صرف پانی محفوظ ہوجائے گا بلکہ خواتین کے مسائل بھی ہوجائیں گے کیونکہ وہ سروں پر دور دور سے پانی لاتی ہے،،

بجلی پرچلنے والے ٹیوب ویلز کو کس طرح سولرائزیشن نظام میں لایا جاتا ہے اور اس پر کتنا خرچہ آتا ہے؟ اس حوالے سے سہیل خان کا کہنا تھا کہ اسکو آسانی سے سولرائزیشن نظام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس پر 7 سے 8 لاکھ تک خرچہ آتا ہے۔

اس منصوبے میں کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے صحبت خان آفریدی کا کہنا تھا کہ،، میری اپنی رائے یہ ہے کہ اگر یہ سکیم کمیونٹی کی فزیلبیٹی پر ہو، ایسی جگہوں اور کھیتوں میں لگائے جائے جو اس کے لئے مناسب ہو تو کرپشن کی روک تھام ہوسکتی ہے اس کے علاوہ کرپشن کی روک تھام ممکن نہیں،،

اس حوالے سے سکینہ مومند کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لئے عام لوگوں پرمشتمل کمیونٹی بنانی چاہیئے کہ وہ اپنے علاقے کی ضروریات کو جانتے ہیں تو اس طرح سے یہ منصوبہ بہتر طریقے سے چل سکتا ہے۔

صحبت خان آفریدی نے سکینہ مومند کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ فزیلیبٹی کی بنیاد پرہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا،، اگر ایک گاوں ہے جہاں پانی نہیں ہے تو ایسے گاوں کے لئے کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ ہونا تو یہ چاہیئے کہ پہلے سروے کیا جائے اور پتہ لگایا جائے متعلقہ جگہ پانی ہے کہ نہیں، جگہ مناسب ہے کہ نہیں اور آبادی کو بھی دیکھنا چاہئے کہ انکو ٹیوب ویل کی ضرورت ہے، ہینڈ پمپ کی یا کسی اور چیز کی تو ایسے میں منصوبہ اچھے طریقے سے چل سکتا ہے جس سے لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا،،

سکینہ مومند کا مزید کہنا تھا کہ ،، قبائلی لوگ اپنے لئے خود نہ تو ٹیوب ویل کا انتظام کرسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی اور انتظام کرسکتی ہے، حکومت کو چاہیئے کہ وہ خود سروے کریں اور دیکھیں کہ کس جگہ کس چیز کی ضرورت ہے، جہاں زراعتی ٹیوب ویل کی ضرورت ہوں وہاں وہ نصب کریں اور جہاں پینے کی پانی کی ضرورت ہوں وہاں پینے کی پانی کے ٹیوب ویل لگائیں،،

صحبت خن آفریدی نے کہا قبائلی عوام شدت پسندی کے دور سے گزر چکے ہیں جس دوران پانی کے جتنے بھی منصوبے تھے وہ شدت پسندی کا شکار ہوچکے ہیں، کنووں کو بھی نقصان پہنچا ہے، اب قبائلی علاقوں میں دوبارہ آبادکاری کا دور جاری ہے تو پرانے منصوبوں کی مرمت کی بجائے ہمیں پبلک ہیلتھ اور تعلیم کی مد میں پیکجز دیئے جائیں کیونکہ جب صحت کی بات ہوتی ہے تو وہاں پانی کی بات آجاتی ہے۔ گندے پانی سے بیماریاں پھیلتی ہے اور اگرپانی نہ ہوتو زندگی مشکل ہوجاتی ہے۔

سہیل خان نے کہا کہ انہوں نے پرائیویٹ طور پر بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویلز کو سولرائزڈ نظام میں کامیابی سے تبدیل کیا ہے، انکے مطابق انہوں نے شاہ کس اور برقمبر کے علاقے میں ٹیوب ویلز کو سولرائزڈ نظام میں تبدیل کرنے کا کام کیا ہے اور وہاں یہ تبدیلی کامیاب بھی ہوئی ہے۔

صحبت خان آفریدی نے کہا کہ اگرچہ سولرائزیشن نظام کے فوائد ہے تاہم اس کے نقصانات بھی ہے، مثال کے طور پر اس سے واپڈا کا محکمہ ختم ہوسکتا ہے، پینل لگانے سے زمین بھی کم ہوسکتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زرمبادلہ دوسرے ممالک کو جاسکتا ہے کیونکہ یہ نظام پاکستان کا نہیں ہے لہذا واپڈا پہ کام ہونا چاہیئے کہ اپنے ملک میں ہی بجلی پیدا کی جاسکے۔

 

Show More
Back to top button