کے پی امپیکٹ چیلنج پروگرام میں سفارش چلتی ہے یا میرٹ؟ آزمائش شرط ہے!

افتخار خان

خیبرپختونخوا حکومت نے کاروبار کیلئے مالی امداد کی سکیم ‘کے پی امپیکٹ چیلنج پروگرام’ کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی ہے اور پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں میں دس ہزار کاروبار شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

کے پی امپیکٹ چیلنج پروگرام خیبرپختونخوا حکومت نے 2017 میں لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے تعاون سے صوبے کے بندوبستی علاقوں میں شروع کیا تھا جس میں ذاتی کاروبار کا آئیڈیا رکھنے والے اٹھارہ تا تیس سال کی عمر کے نوجوانوں کے ساتھ وقتاَ فوقتاَ 20 لاکھ روپے تک کی مالی امداد کی جاتی ہے۔

امسال بجٹ میں صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ اس پروگرام کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں اس حوالے سے ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز خیبرپختونخوا اسفندیار خٹک کہ اگر اس پروگرام کے تحت قبائلی اضلاع میں دس ہزار نئے کاروبار شروع کرنے میں ذرا بھی انہیں کامیابی ملی تو اس کے معیشت پر دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں میں صرف سرکاری ملازمت کے پیچھے بھاگ دوڑ کے رجحان کا خاتمہ اور انہیں دوسرے لوگوں کو روزگار دینے کے قابل بنانا ہے۔

اس پروگرام کے تحت منتخب نوجوانوں کو نہ صرف نقد پیسے دیے جاتے ہیں بلکہ پارٹنر یونیورسٹی کی جانب سے انہیں کاروبار شروع کرنے اور اسے کامیاب بنانے کے حوالے سے باقاعدہ تربیت بھی دی جاتی ہے جبکہ پہلے سے جاری کاروبار کو مزید وسیع کرنے کے خواہاں نوجوانوں کو بھی مالی امداد دی جاتی ہے۔

قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے ارشد بھی اس پروگرام کے اجراء پر بہت خوش ہیں جن کا کہنا ہے کہ بدامنی اور اس کے بعد فوجی آپریشنوں کے باعث نو سال قبل بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بےروزگار بھی ہوگئے تھے تاہم ہنر کے باوجود اپنا کاروبار دوبارہ بحال اس لیے نہ کرسکے کہ ان کے پاس پیسوں کی کمی تھی۔

‘نقل مکانی سے قبل باڑہ بازار میں میری فوٹو سٹیٹ کی بڑی مشہور دکان تھی لیکن جب آپریشن کے باعث بازار بند ہوا تو پشاور شفٹ ہوا اور دیگر دکانداروں کے ساتھ کبھی تنخواہ تو کبھی یومیہ اجرت پر کام کرنے لگا۔’، ارشد نے بتایا اور مزید کہا کہ اپنے علاقے کو واپسی کے باوجود وہ اپنا کاروبار شروع نہ کرسکے لیکن اب کے پی امپیکت چیلنج کے ساتھ انہیں امید ہے کہ ان کی درخواست بھی منظور ہوجائے گی اور پیسے ملنے پر اپنی فوٹو سٹیٹ کی دکان بحال کرسکیں گے۔

دوسری جانب اسفندیار خٹک کہتے ہیں کہ پروگرام کے تحت ہر اس شخص کو پانچ تا لاکھ ہزار مالی امداد مل سکتی ہے جس کے پاس کاروبار کا قابل عمل منصوبہ ہو اور اس سلسلے میں کوئی سفارش نہیں چلتی۔

تاہم قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن طفیل خان کو حکومت کے اس موقف پر یقین نہیں کہ گویا یہ مالی امداد بغیر کسی سفارش کے دی جاتی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں طفیل خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے پروگرام کیلئے بسااوقات انتخاب میں رورعایت سے کام لیا جاتا ہے۔

تاہم پھر بھی حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا براہ راست اثر انہی لوگوں پر پڑے گا۔

اسی طرح قبائلی ضلع اورکزئی سے تعلق رکھنے والے شاکر اورکزئی نامی تاجر نے اس ھوالے سے تی این این کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں بہت سارے تعلیم یافتہ نوجوان بےروزگار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع مین سیاحت اور ہوٹلنگ کے کافی مواقع ہیں اور ان شعبوں میں اگر مالی امداد کے ساتھ ساتھ تربیت بھی دی جائے تو اس سے نہ صرف بےروزگاری کا خاتمہ ہوگا بلکہ علاقے کی معیشت بھی بہتر ہوجائے گی۔

اس حوالے سے اسفند یار خٹک کا کہنا تھا کہ کے پی امپکیٹ پروگرام کے تحت گزشتہ ڈیڈھ سال کے دوران 211 افراد نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے اور نہ صرف وہ خود بلکہ ان کی وجہ سے بہت سارے دیگر لوگ بھی برسر روزگار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پروگرام کے تحت مالی امداد کے ساتھ ساتھ درخواست گزاروں کو اپنا کاروبار کامیاب کرانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے کاروباری افراد کے ساتھ تعلقات بھی قائم کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کیلئے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والی شازیہ کہتی ہیں کہ پروگرام تو بہت اچھا ہے لیکن بدقسمتی سے قبائلی عوام کو تاحال اس حوالے سے کوئی خاص معلومات نہیں دی گئیں کہ وہ کسطرح یہ قرضہ حاصل کرسکتے ہیں۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button