خیبرکے 1600 طلباء کالج میں داخلہ لینے سے محروم

 

ضلع خیبرسے تعلق رکھنے والے 1600 طلباء جنہوں نے اس سال میٹرک پاس کیا ہے کالج میں داخلہ لینے سے محروم ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس سال باڑہ ڈویژن کے 1932 طلباء نے میٹرک پاس کیا ہے جن میں صرف 260 کو کوہی شیرحیدر کالج میں داخلہ ملا ہے اور باقی 1600 طلباء داخلے سے محروم ہیں کیونکہ پشاور کے کالجوں میں بھی باڑہ کے طلباء کےلئے لوکل اور نان لوکل کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں خیبر سٹوڈنٹس یونین کے مشران اور سینکڑوں طلباء نے باڑہ پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایا ہے۔

احتجاجی کیمپ میں شریک طلباء کا کہنا ہے کہ کوہی شیر حیدر کالج کے مسائل حل کرنے کےلئے ہرحد تک گئے لیکن کوئی شنوائی نہ ہو سکی اور مجبور ہوکراحتجاجی کمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سے ہنگامی بنیادوں پر مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول شلوبر ، میلواٹ ، عالم گودر اور جعفرکلے ہائی سکولوں کو ہائرسیکنڈری کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ کوہی شیرحیدر کالج میں سیکنڈشفٹ کی کلاسز شروع کی جائے۔

طلباء نے دھمکی دی کہ اگر طلباء کو داخلہ نہ دیا گیا تو پرتشدد مظاہروں اور متحدہ طلباء محاذ بنائینگے۔

احتجاجی کیمپ میں طلباء سمیت علاقے کے سیاسی و سماجی لوگوں نے بھی شرکت کی۔ احتجاجی کیمپ کے دوران نو منتخب ایم پی اے حلقہ پی کے 107 حاجی شفق آفریدی نے بھی شرکت کی اور طلباء سے انکے مطالبات تحریری شکل میں لیکر انکو صوبائی اعلٰی حکام تک پہنچانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ میں پہلے ہی ان مسائل پر وزیر اعلٰی سے بات کرچکا ہوں۔

احتجاجی کیمپ کے شرکاء میں طلباء نے دیگر مطالبات میں مزکورہ کالج میں سیکنڈ شفٹ شروع کرنے, کالج کی سیٹس 50فیصد بڑھانے, مختلف قبیلوں سے ٹرانسپورٹ اور تحصیل باڑہ میں مختلف چار قبیلوں میں ہائی سکولز کو ہائیر سیکینڈری کا درجہ دینےکے مطالبات کئے۔ مزید کہا کہ باڑہ ڈوگرہ میں پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل کے عدم دلچسپی کی وجہ سے انکو تبدیل کیا جائے۔

اس موقع پر خیبر یونین اور خیبر سٹوڈنٹس یونین کے مشران زاہد اللہ ، حارث خان ، گل نذیر ، بصیر افریدی اور عارف افریدی بھی موجود تھے۔

Make Money with 1xBet
Show More
Back to top button