،گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کے پرنسپل کو فورا تبدیل کیا جائے،

جنوبی وزیرستان کے گورنمنٹ ڈگری کالج وانا کے طلباء نے پرنسپل کی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

طلباء کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج وانا میں 1800 کے قریب طلباء زیرتعلیم ہیں،ان طلباء کی صحت مندانہ سرگرمیوں کیلئے آنے والے سرکاری فنڈز جو کھیل کھود کے سامان کیلئے ہوتا ہے ابھی تک طلباء کیلئے استعمال نہیں ہوا۔

ڈگری کالج وانا طلباء کے صدر سلطان نے کا کہنا ہے کہ جب سے امیرنواز خان کالج میں پرنسپل کے عہدے پر تعینات ہوا ہے کالج بہتری کی بجائے ابتری کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پرنسپل ذمہ داری نبھانے کے اہل نہیں ہے تمام پلے گراونڈ ویران ہوگئے ہیں،کالج کی جلی ہوئی عمارت پچھلے 3 سال سے فنڈز موجود ہونے کے باوجود تعمیر نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا پورے کالج میں لیب تک موجود نہیں ،پرنسپل کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کالج کے 1800 ریگولر طلباء میں سے بمشکل 300 یا 400 طلباء حاضری دیتے ہیں کیونکہ طلباء کو پتہ ہے کہ کالج میں حاضری دینا اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

کمپیوٹرسائنس کے ایک طالب علم نے بتایا کہ کمپیوٹر سائنس کا کوئی لیکچرر موجود نہیں،کمپیوٹر لیب میں 2 پرانے کمپیوٹر پڑے ہیں، جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے رن نہیں ہوتے، کمپیوٹر کے بارے ہمیں بلیک بورڈ پر لکھ کر بتایا جاتا ہے جوکہ ہم طلباء نہیں سمجھتے۔

اس نے مزید کہا پرنسپل کہہ رہا ہے کہ نئے کمپیوٹر آجائیں گے لیکن سال گزر جانے کے باوجود کمپیوٹر نہیں ارہے جس کی وجہ سے کمپیوٹر سائنس کے طلباء کو پرنسپل روشنی کی بجائے اندھیرے میں دھکیل رہے ہیں۔

ایک اور طالب علم افسرخان نے بتایا کہ موجودہ پرنسپل کی وجہ سے کالج اور کالج سے ملحقہ رہائشی ہاسٹلوں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے،اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔

طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ کالج کے موجودہ پرنسپل کو فی الفور تبدیل کرکے اہل اور قابل پرنسپل کو تعینات کیا جائے۔

Show More
Back to top button